کابینہ کی منظوری کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی کا نفاذ شروع ہوگا: ترجمان اسرائیلی حکومت
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-09/1517933_9823094_ISRL_CAB_updates.jpgفائل فوٹواسرائیلی حکومت کی ترجمان شوش بیڈروسیان نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کی توثیق کےلیے کابینہ کے اجلاس کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر غزہ میں جنگ بندی کا آغاز ہو جائے گا۔
بیڈروسیان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اسرائیل نے آج صبح مصر میں معاہدے کے حتمی مسودے پر دستخط کر دیے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-09/1517916_060526_updates.jpg
معاہدے کی خبر سننے کے بعد غزہ میں خوشی کی لہر، سجدہ شکر، اللّٰہ اکبر کے نعرے لگائے
غزہ میں بھی فلسطینیوں میں معاہدے کی خبر سننے کے بعد خوشی کی لہر دوڑ گئی، سجدہ شکر، ادا کیا گیا، اللّٰہ اکبر کے نعرے لگائے گئے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ترجمان کے مطابق معاہدے میں طے پانے والے نکات کے تحت جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد 72 گھنٹوں کی مدت شروع ہوگی، جس کے دوران قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ عمل میں لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حماس رہنما مروان برغوثی رہائی کے معاہدے کا حصہ نہیں ہیں، یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اسرائیلی فوج غزہ کے 53 فیصد حصے پر کنٹرول رکھے گی۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی شرائط میں ’’ہیرا پھیری‘‘ کر رہا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-09/1517910_054237_updates.jpg
اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندرونی علاقوں سے پیچھے ہٹنے کی تیاری شروع کردی
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوج متفقہ لائنز پر چلی جائے گی۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے طے شدہ اقدامات اور طریقۂ کار میں جان بوجھ کر رد و بدل کر رہا ہے۔
الجزیرہ عربی سے گفتگو کرتے ہوئے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ اسرائیل نے معاہدے میں طے شدہ تاریخوں، فہرستوں اور بعض کارروائیوں میں تبدیلیاں شروع کر دی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو یہ سب صرف اس لیے کر رہا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ تمام معاملات پر کنٹرول اور فیصلہ سازی صرف اسی کے ہاتھ میں ہے۔
قاسم نے مزید کہا کہ ہم ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ قابض قوت کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ طے شدہ شرائط پر عمل کرے اور ٹال مٹول سے باز رہے۔ آج دوپہر میں جنگ بندی کے اعلان پر بات ہوئی تھی، لیکن اسرائیل نے اندرونی وجوہات کی بنا پر اس اعلان کو مؤخر کر دیا۔
حماس کا کہنا ہے کہ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ قابض قوت کو معاہدے کی تمام شقوں پر عمل کرنا ہوگا اور ہم ثالث ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو اس کا پابند بنائیں۔
Pages:
[1]