وسیم اکرم کے بعد جنید اکرم بھارتی میڈیا کی جعلی خبروں کا شکار
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-10/1518193_4775723_vg%DA%86%D9%81%D8%B4j_updates.jpg— فائل فوٹوقومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کے بعد اب معروف پاکستانی یوٹیوبر جنید اکرم بھی بھارتی میڈیا کی جعلی خبروں کا شکار ہوگئے۔
’گنجی سواگ‘ کے نام پہچانے جانے والے پاکستانی یوٹیوبر جنید اکرم نے گمراہ کُن خبروں کی اشاعت پر بھارتی میڈیا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
بھارتی میڈیا نے وسیم اکرم کے بعد جنید اکرم کو اپنے پروپیگنڈے میں شامل کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ جنید اکرم جن کی پروریش خلیجی ملک میں ہوئی، کو کینیڈا میں نسل پرستی کا سامنا ہے اور جنوبی ایشیائی ملک سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں بھارتی سمجھا جارہا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-08/1517497_090901_updates.jpg
اگر آپ ڈیڑھ ہوشیار ہیں تو پہلے خبر کی تصدیق کرلیا کریں: وسیم اکرم کی بھارتی میڈیا پر تنقید
پاکستان کے سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے بھارتی میڈیا کو آڑے ہاتوں لے لیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
انڈین میڈیا کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جنید کینیڈا میں ایک فاسٹ فوڈ چین میں کام کرتے ہیں، جہاں لوگ انہیں انڈین سمجھتے اور نسل پرستی کا نشانہ بناتے ہیں جس پر انہیں لوگوں کو یہ واضح کرنا پڑتا ہے کہ وہ انڈین نہیں پاکستانی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس طرح کا امتیازی سلوک صرف بھارتیوں کو ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے ہر ایک کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-10/1518193_4669585_bh%D8%B7%D8%A8n_updates.jpg
اس حوالے سے اب جنید اکرم نے نئی ویڈیو جاری کی ہے اور بھارتی پروپیگنڈے کو گمراہ کُن قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں کبھی کینیڈا نہیں گیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی رپورٹ میں جس جنید کی بات کی جا رہی ہے وہ میں نہیں ہوں۔
جنید اکرم نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ کو سوشل میڈیا پر ٹیگ بھی کیا اور اس خبر کی نفی بھی کی لیکن اس کے باوجود بھارتی میڈیا نے نہ تو خبر ڈیلیٹ کی اور نہ ہی غلط خبر پر معافی مانگی۔
واضح رہے کہ حال ہی میں وسیم اکرم نے بھی گمراہ کُن خبروں پر بھارتی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور صارفین پر زور دیا کہ رائے قائم کرنے سے قبل خبروں کی تصدیق کیا کریں۔
Pages:
[1]