مس یونیورس مقابلے میں پہلی بار فلسطین کی نمائندگی کرنیوالی حسینہ کون ہیں؟
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-10/1518207_2338061_7_updates.jpgفوٹو بشکریہ انسٹاگراممس یونیورس مقابلے میں مس فلسطین نادین ایوب فلسطین کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون بننے والی ہیں جو عالمی سطح پر فلسطینی قوم کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔
نادین ایوب نے مس یونیورس مقابلے میں اپنی شرکت کا اعلان اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کیا تھا۔
اُنہوں نے فوٹو اینڈ ویڈیو شئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنے بارے میں تفصیلات بھی بتائی ہیں۔
مس فلسطین نے بتایا کہ میرے والدین کا تعلق فلسطین سے ہے جب کہ میں امریکا میں پیدا ہوئی تھی، میری پیدائش کے کچھ عرصے بعد میرے والدین نے دوبارہ فلسطین جانے کا فیصلہ کیا اور پھر میں نے بچپن کے 6 سال فلسطین میں گزارے۔
اُنہوں نے بتایا کہ کچھ وجوہات کی بنا پر میری فیملی کو دوبارہ امریکا جانا پڑا اور وہاں ہم 3 سال رہے پھر حالات کے پیشِ نظر ہم کینیڈا منتقل ہوگئے۔
نادین ایوب نے بتایا کہ میں نے زندگی کا زیادہ عرصہ کینیڈا میں گزارا اور اپنی اعلیٰ تعلیم بھی وہیں سے مکمل کی مگر کینیڈا میں رہتے ہوئے بھی میرے والدین اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ ہم اپنی چھٹیاں فلسطین میں گزاریں اور اپنی سرزمین سے جڑے رہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوبارہ فلسطین جانے کا فیصلہ کیا، میں نے وہاں پر نفسیات اور انگریزی کی ٹیچر کے طور پر کام کیا، میں نے وہاں مختلف قسم کی فلاحی اداروں کے ساتھ بھی کام کیا۔
مس فلسطین نے بتایا کہ مجھے 2022ء میں مس فلسطین بننے کا موقع ملا، میں نے وہ ٹائٹل جیت لیا پھر ایک بین الاقوامی مقابلۂ حسن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، وہاں بھی میں ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہی اور وہ تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کوئی فلسطینی خاتون کوئی بین الاقوامی ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔
اُنہوں نے بتایا کہ اس کامیابی نے سفر جاری رکھنے کے لیے میرا حوصلہ بڑھایا اور میں نے اپنی اس کامیابی کا مثبت اثر دیکھا تو اپنا سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-08-16/1501190_123114_updates.jpg
مِس یونیورس مقابلے میں حصہ لینے کیلئے فلسطین کی پہلی حسینہ میدان میں آگئیں
فلسطینی نژاد اور متحدہ عرب امارات میں مقیم حسینہ نادین ایوب نے مقابلے میں اپنی شرکت کا اعلان کردیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
نادین ایوب نے بتایا کہ میں نے مزید بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا لیکن فلسطین میں مظلوم لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر مجھے یہ وقت کسی بھی مقابلے کا حصہ بننے کے لیے مناسب نہیں لگا اس لیے میں نے اس کام میں تھوڑی تاخیر کی۔
اُنہوں نے کہا کہ اب 2025ء میں یہ فیصلہ کیا کہ میں مس یونیورس مقابلے میں فلسطین کی نمائندگی کروں گی اور بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کی آواز بنوں گی۔
مس فلسطین نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں چاہتی کہ جیسا خبروں میں نظر آ رہا اس طرح فلسطینی دنیا میں صرف تکلیف کی علامت بن کر رہ جائیں کیونکہ ہم اس سے کہیں زیادہ ہیں، ہمارے خواب ہیں، خواہشات ہیں اور ہم باصلاحیت ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ دنیا ہماری اس حقیقت کو جانے۔
Pages:
[1]