بہت زیادہ دبلا ہونا درمیانے موٹاپے کی نسبت زیادہ جان لیوا ہو سکتا ہے، نئی تحقیق
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-09-15/1510400_2275360_fat01_updates.jpgایک نئی تحقیق سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ بہت زیادہ دبلا ہونا زیادہ وزن یا ہلکے درجے کے موٹاپے کی نسبت زیادہ جان لیوا ہو سکتا ہے اور محققین اس نتیجے پرپہنچے کہ موٹاپے سے تندرست ہونا ممکن ہے۔
اس تحقیق کے حوالے سے ڈینش سائنسدانوں نے 85,761 افراد کو پانچ سال تک اپنی تحقیق میں شامل رکھا، اس دوران ان میں سے آٹھ فیصد افراد یعنی 7555 افراد انتقال کر گئے۔
تحقیق میں شامل افراد میں سے 81.4 فیصد خواتین تھیں اور مطالعے کے آغاز میں ان کی اوسط عمر 66.4 سال تھی۔
ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی اسپتال کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ زیادہ وزن یا معمولی موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ان کے مرنے کے امکانات ان لوگوں کے برابر ہی ہوتے ہیں جو صحت مند بی ایم آئی کی بالائی رینج یعنی 22.5 سے 25 کے درمیان ہوتے ہیں۔
سائنس ڈیلی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی ابتدائی نتائج کے مطابق ایسی صورتحال کو بعض اوقات میٹابولک لحاظ سے فٹنس کے ساتھ صحت مند یا موٹاپا کہا جاتا ہے۔
اس کے برعکس اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ بہت دبلے پتلے افراد جن کا بی ایم آئی 18.5 یا اس سے کم ہوتا ہے، ان کی موت کا امکان ریفرنس آبادی کے مقابلے میں 2.7 گنا زیادہ پایا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ افراد جو صحت مندانہ رینج کے بالکل نیچے تھے اور انکا بی ایم آئی 18.5 سے 20.0 تھا ان میں موت کے امکانات دگنے تھے۔
Pages:
[1]