slotcosino Publish time 2025-10-10 16:19:39

سائنسدانوں نے جگر کی مہلک بیماری کی اہم وجہ دریافت کرلی

https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-09-16/1510633_5427844_2_updates.jpg
— فائل فوٹو

جگر کی بیماریوں کی وجہ عام طور پر ضرورت سے زیادہ شراب نوشی یا پھر غیر متوازن خوراک کو قرار دیا جاتا ہے۔

مگر اب ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ آنتوں میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا جگر کے کینسر کے کیسز میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

برٹش لیور ٹرسٹ کے مطابق، جگر کی بیماری واحد بڑی بیماری ہے جس میں اموات کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے اور گزشتہ 50 سالوں میں 4 گنا بڑھ چکی ہے۔

لیکن اب کینیڈا کے محققین نے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرکے جگر کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کا ایک طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-08-05/1497780_115620_updates.jpg
جلد کی 4 تبدیلیاں جگر کی خرابی کی علامت ہو سکتی ہیں: ماہرین کا انکشاف

جگر خون سے زہریلے مادوں کو فلٹر، ضروری وٹامنز اور معدنیات کو ذخیرہ جبکہ غذائی اجزاء کو میٹابولائز کرتا ہے، اس لیے مجموعی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے جگر کا ٹھیک ہونا انتہائی ضروری ہے۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png

جرنل سیل میٹابولزم میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے آنت میں موجود بیکٹیریا کے ذریعے پیدا ہونے والے ایک مالیکیول کی شناخت کی اور اسے الگ کرنے میں کامیابی حاصل کی جو جگر کو بہت زیادہ چینی اور چربی بنانے کے لیے متحرک کرتا ہے۔

میک ماسٹر یونیورسٹی میں بائیومیڈیکل سائنسز کے ماہر اور تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر جوناتھن شیٹزر نے کہا کہ یہ میٹابولک امراض جیسے فیٹی لیور کے علاج کا بالکل نیا طریقہ ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ہارمونز یا جگر کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے ہمجگر کو نقصان پہنچانے سے پہلے ہی مائیکروبیل فیول کو روک رہے ہیں۔

جوناتھن شیٹزر نے کہا کہ ہم تقریباً ایک صدی سے یہ جانتے ہیں کہ پٹھے اور جگر لیکٹیٹ اور گلوکوز کا تبادلہ کرتے ہیں لیکن اب ہم نے یہ دریافت کیا ہے کہ اس تبادلے میں آنتوں میں موجود بیکٹیریا بھی شامل ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-08-01/1496556_124520_updates.jpg
جگر کے کینسر کا خدشہ بڑھانے والی 4 عام عادتیں

جگر کا کینسر اکثر بہت خاموشی سے بڑھتا ہے اس لیے اس کی تشخیص عموماََ دیر سے ہوتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png

کینیڈین محققین نے تحقیق کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی کہ ڈی لیکٹیٹ نامی مالیکیول جسم میں کیسے کام کرتا ہے۔

تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ موٹے لوگوں میں اس مالیکیول کی زیادہ مقدار ہوتی ہے اور یہ زیادہ تر آنتوں میں موجود مائیکروبز سے بنتا ہے جو خون میں شوگر اور جگر کی چربی کو عام لیکٹیٹ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھاتے ہیں۔

محققین نے ڈی لیکٹیٹ کے اثر کو روکنے کے لیے ایک’گٹ سبسٹریٹ ٹریپ‘ ڈیزائن کیا اور اُنہیں امید تھی کہ یہ گٹ میں ڈی لیکٹیٹ سے جُڑ جائے گا اور اسے جذب ہونے سے روک دے گا۔

محققین نے اپنے ڈیزائن کیے ہوئے ’گٹ سبسٹریٹ ٹریپ‘ کو تحقیق کے دوران چوہوں پر آزمایا اور ان کا تجزبہ کامیاب رہا۔

تحقیق کے دوران جن چوہوں کو بایوڈیگریڈیبل ٹریپ کھلایا گیا ان کے خون میں گلوکوز کی سطح کم اور انسولین کی بہتر مزاحمت سامنے آئی اور اس کے علاوہ جگر کی سوزش اور فائبروسس میں بھی کمی ہوئی۔

محققین نے بتایا کہ چوہوں میں یہ تبدیلیاں خوراک یا وزن میں کسی تبدیلی کے بغیر دیکھی گئیں۔
Pages: [1]
View full version: سائنسدانوں نے جگر کی مہلک بیماری کی اہم وجہ دریافت کرلی