غزہ جنگ، اسرائیلی مظالم دکھانے والی 700 ویڈیوز یوٹیوب سے حذف
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-07/1526438_8231420_12_updates.jpgفائل فوٹومعروف ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے والی کم از کم 700 ویڈیوز حذف کردیں۔
امریکی جریدے دی انٹرسیپٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیوز فلسطینی انسانی حقوق کی تین نمایاں تنظیموں الحق، الميزان سینٹر فار ہیومن رائٹس اور فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کی ملکیت تھیں۔
ان ویڈیوز میں غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے متاثرین، تباہ شدہ علاقوں اور فلسطینی نژاد امریکی صحافی کے قتل سمیت متعدد سنگین واقعات کی دستاویزی ریکارڈنگ شامل تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ایک امریکی مہم کے بعد کی گئی، جس کا مقصد اسرائیلی جنگی جرائم کی جواب دہی کو روکنا تھا، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے انسانیت کے خلاف جرائم کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-03-06/1448338_015801_updates.jpg
’غزہ ہمارا ہے‘، فلسطینیوں کا امریکی صدر ٹرمپ کی اے آئی ویڈیو کا منہ توڑ جواب
فلسطینیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اے آئی سے بنائی گئی متنازع ویڈیو ’ٹرمپ غزہ‘ کا جواب ’غزہ ہمارا ہے‘ سے دے دیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
یوٹیوب جو کہ گوگل کی ملکیت ہے نے تصدیق کی کہ متعلقہ اکاؤنٹس کو امریکی تجارتی اور دیگر پابندیوں کے قوانین کی بنیاد پر معطل کیا گیا۔
یوٹیوب کے ترجمان بوٹ بُلوِنکل نے کہا کہ گوگل متعلقہ پابندیوں اور تجارتی قوانین کی مکمل پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔
تاہم سینٹر فار کانسٹی ٹیوشنل رائٹس کی سینئر وکیل کیتھرین گیلاگر نے اس اقدام کو امریکی حکومت کے ایجنڈے کا تسلسل قرار دیا، جس کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے ثبوتوں کو عوام کی نظر سے چھپانا ہے۔
الحق تنظیم کے ترجمان نے بتایا کہ ان کا یوٹیوب چینل بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بند کردیا گیا، جو پلیٹ فارم کی اپنی شفافیت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
Pages:
[1]