آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے، مجوزہ آئینی ترمیم
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-08/1526784_8212006_naa_updates.jpgفائل فوٹو
27ویں آئینی ترمیم میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ متعارف کروا دیا گیا، مجوزہ ترمیم کے مطابق آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔
27ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات سامنے آگئے، جس کے مطابق آرمی چیف، نیول چیف اور ایئر چیف کا تقرر صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر کرے گا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔
وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تجویز پر پاک آرمی سے کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا تقرر کرے گا، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک حاصل کرنے والا تاحیات یونیفارم میں رہے گا، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک اور مراعات بھی تاحیات رہیں گی۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-08/1526775_052402_updates.jpg
صدر کے بعد وزیراعظم کو بھی فوجداری مقدمات سے استثنیٰ کی ترمیم کمیٹی میں پیش
مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ترمیم کی منظوری کے بعد وزیر اعظم کے خلاف بھی دوران مدت فوجداری مقدمات میں کارروائی نہیں ہو سکے گی۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا عہدہ پارلیمنٹ کے مواخذہ سے ختم کیا جا سکے گا، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئرفورس، ایڈمرل آف فلیٹ کو صدر کی طرح عدالتی استثنیٰ حاصل ہوگا، کمانڈ مدت پوری ہونے پر وفاقی حکومت انہیں ریاست کے مفاد میں کوئی ذمہ داری سونپ سکتی ہے۔
کوئی جج ٹرانسفر ماننے سے انکار کریگا، ریٹائر تصور ہوگا
ملک میں وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا جائے گا، اگر کوئی جج ٹرانسفر ماننے سے انکار کرے گا وہ ریٹائر تصور کیا جائے گا، صدر کے خلاف عمر بھر کے لیے کوئی فوجداری کارروائی نہیں ہوسکے گی، گورنر کے خلاف اس کی مدت کے لیےکوئی فوجداری کارروائی نہیں ہو گی، کوئی عدالت صدر اور گورنر کی گرفتاری یا جیل بھیجنے کے لیےکارروائی نہیں کر سکے گی۔
چیف جسٹس آئینی کورٹ اور ججز کا تقرر صدر کریگا
مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں ہر صوبے سے برابر ججز ہوں گے، چیف جسٹس آئینی کورٹ اور ججز کا تقرر صدر کرے گا، وفاقی آئینی عدالت کے پاس اپنے کسی فیصلے پر نظرثانی کا اختیار ہوگا، صدر قانون سے متعلق کوئی معاملہ رائے کے لیے وفاقی آئینی عدالت کو بھیجے گا، قانون سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجنے کی شق ختم کر دی گئی، از خود نوٹس سے متعلق 184 بھی حذف کر دی گئی۔
آئینی عدالت کا جج 68 سال کی عمر تک عہدے پر رہے گا
وفاقی آئینی عدالت کا جج 68 سال کی عمر تک عہدے پر رہے گا، آئینی عدالت کا چیف جسٹس اپنی تین سالہ مدت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو جائے گا، صدر آئینی عدالت کے کسی جج کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرے گا، آئینی کورٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہائی کورٹ سے کوئی اپیل یا کیس اپنے پاس یا کسی اور ہائی کورٹ ٹرانسفر کرنے کا اختیار ہوگا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-08/1526770_043909_updates.jpg
27ویں آئینی ترمیم: مشترکہ کمیٹی میں بل پر آج ووٹنگ نہ کرنے کا فیصلہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں کے کل ہونے والے مشترکہ اجلاس میں بل پر شق وار ووٹنگ متوقع ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی کورٹ کے فیصلے کی سپریم کورٹ سمیت پاکستان کی تمام عدالتیں پابند ہوں گی، سپریم کورٹ کے فیصلےکے سوائے آئینی عدالت کے تمام عدالتیں پابند ہوں گی، ہائی کورٹ کا کوئی جج وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ میں تقرری کو قبول نہیں کرے گا تو ریٹائر تصور ہوگا، سپریم کورٹ کا کوئی جج وفاقی آئینی عدالت کا جج بننے سے انکار کرے گا تو ریٹائر تصور ہوگا۔
صدر سپریم کورٹ کے ججز میں سے وزیراعظم کی ایڈوائس پر وفاقی آئینی کورٹ کا پہلا چیف جسٹس تقرر کرے گا، وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججز کا تقرر صدر وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیف جسٹس فیڈرل آئینی کورٹ سے مشاورت سے کرے گا۔
Pages:
[1]