قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 243 پر تفصیلی مشاورت کے بعد منظوری دے
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-09/1527001_5435695_naa_updates.jpgقانون اور انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے پارلیمٹ میں پیش کردہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کی منظوری دے دی، ترمیم کے ڈرافٹ پر مشاورت مکمل کرلی گئی، اضافی ترامیم پر کل تک حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے اور بلوچستان میں اسمبلی کی نشستیں بڑھانےکی تجویز پر حکومت نے وقت مانگ لیا۔
ذرائع کے مطابق آئینی عدالتوں کے قیام اور زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر 1 سال کرنے کی ترمیم منظور کرلی گئی۔ ایم کیو ایم کی بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ دینے سے متعلق ترمیم پر اتفاق کرلیا گیا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-08/1526784_070527_updates.jpg
آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے، مجوزہ آئینی ترمیم
وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تجویز پر پاک آرمی سے کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا تقرر کرے گا،https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
چیئرمین قائمہ کمیٹی فاروق نائیک نے کہا ہر جماعت کو رائے دینے کا حق ہے، جس کی جو رائے ہوگی اس پر غور کریں گے۔
سینیٹ کی جانب سے کل 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ پارلیمانی جماعتوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنا چاہیے، پارلیمانی کمیٹی نے اپوزیشن کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کیا۔
پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام ف، پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔
Pages:
[1]