موسمی ڈپریشن آپ کے موڈ کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-10/1527287_5574275_12_updates.jpgفائل فوٹوجیسے جیسے دن کے اوقات کم اور درجہ حرارت میں کمی آتی ہے، بہت سے لوگ ایک ایسی ذہنی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں جسے موسمی ڈپریشن یا سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر seasonal affective disorder کہا جاتا ہے، جو عموماً سردیوں اور خزاں کے موسم میں زیادہ ہوتا ہے۔
رٹگرز یونیورسٹی بیہیویئرل ہیلتھ کیئر کی چیف ماہرِ نفسیات اسٹیفنی مارسلو کے مطابق موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے صحیح طریقے اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مرض کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، جس میں توانائی کی کمی، مستقل اداسی، بھوک اور نیند میں تبدیلیاں، وزن میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔ بعض افراد میں مایوسی اور خودکشی کے خیالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، عام طور پر اس بیماری کی تشخیص تب کی جاتی ہے جب یہ علامات دو مسلسل سردیوں تک برقرار رہیں اور دیگر موسموں میں بھی شدت اختیار کر جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی میں کمی اس بیماری کی بڑی وجہ ہے، اس لیے قدرتی روشنی میں وقت گزارنا انتہائی اہم ہے، کھڑکی کے قریب بیٹھنا یا دن میں کچھ دیر باہر جانا سیروٹونن کی افزائش میں مدد دیتا ہے، جو خوشی اور مثبت جذبات سے جڑا ہوا ایک ہارمون ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-10/1527228_112203_updates.jpg
موسیقی ڈیمنشیا کے اثرات کم کرنے میں مددگار
ماہرین کے مطابق پرانے گانے سننا دماغ کے ان حصوں کو فعال کرتا ہے جو یادداشت، زبان، توجہ اور جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
تحقیقات کے مطابق لائٹ تھراپی جس میں مصنوعی روشنی کا استعمال کیا جاتا ہے اگر موسم کے آغاز میں شروع کی جائے تو تقریباً 85 فیصد مریضوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
دیگر علاج میں کگنیٹیو بیہیویئرل تھراپی (CBT) اور اینٹی ڈپریسنٹ ادویات (SSRIs) شامل ہیں، خاص طور پر اُن مریضوں کے لیے جس میں علامات زیادہ شدید ہوں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنانا جیسے سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا، جسمانی طور پر متحرک رہنا اور متوازن غذا لینا موڈ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
نفسیاتی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کیفیت کو نظرانداز نہ کیا جائے اور مدد حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ نہ برتی جائے، کیونکہ موسمی ڈپریشن قابلِ علاج ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
Pages:
[1]