بہار الیکشن پر راجدیپ سردیسائی کی کڑی تنقید
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-15/1528784_3586966_BiharElection_updates.jpgمعروف بھارتی صحافی اور تجزیہ کار راجدیپ سردیسائی نے ریاست بہار میں حالیہ الیکشن پر تنقیدی تبصرہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں راجدیپ سردیسائی نے ذاتی تجزیے اور تبصرے میں بہار کے انتخابات کو ’ووٹ خریدی الیکشن‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ووٹ چوری کے الزام بھول بھی جائیں تو میری ذاتی رائے ہے کہ بہار کے الیکشن میں ووٹ کو خریدا گیا اور جب آپ ووٹ کی بولی لگا سکتے ہیں تو اسے چرانے کی کیا ضرورت ہے؟
بھارتی صحافی نے مزید کہا کہ ایسا ہی کچھ ایک سطح پر بہار کے الیکشن میں ہوا ہے، وزیراعلیٰ کی روزگار اسکیم کے نام پر 1 کروڑ 40 لاکھ خواتین کی جیب میں 10 ہزار روپے فی کس ڈالے گئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ سب انتخابی مہم کے دوران کیا گیا، ایسا کرکے الیکشن ضابطہ اخلاق کو روندا گیا، جو میری رائے میں غیر قانونی اقدام ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-14/1528506_095907_updates.jpg
ریاست بہار میں نتیجہ واقعی حیران کن ہے، راہول گاندھی
بھارت کی کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ہم ایسے الیکشن میں فتح حاصل نہیں کر سکے جو شروع سے ہی منصفانہ نہ ہو۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
راجدیپ سردیسائی کا کہنا تھا کہ میں معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن اس دوران مجموعی طور پر کمپرومائز رہا، ذرائع کے مطابق اس نے جواز تراشا ہے کہ یہ پہلے سے جاری اسکیم ہے۔
اُنہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن سے صرف 1 ہفتے پہلے ہر خاتون کو 10 ہزار دینے کے اعلان کو پہلے سے جاری اسکیم کہا جاسکتا ہے؟ ہوسکتا ہے کچھ کے نزدیک یہ اقدام صحیح ہو لیکن اخلاقی طور پر یہ بالکل غلط ہے۔
بھارتی صحافی نے کہا کہ خواتین پہلے سے ہی وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بہتر سمجھتی ہیں، کیونکہ انہوں نے ان کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، ان خواتین کے لیے یہ 10 ہزار بونس ثابت ہوئے ہیں۔
Pages:
[1]