پی ایس بی نے ایشین یوتھ گیمز کیلئے 53 رکنی دستے کی منظوری دے دی
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-03/1516022_3008965_pab_updates.jpgپاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے تیسرے ایشین یوتھ گیمز میں 53 رکنی پاکستانی دستے کی شرکت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
ایشین یوتھ گیمز بحرین میں 22 سے 31 اکتوبر 2025ء تک ہوں گے۔
یہ منظوری وزارت بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) اور وزارت خارجہ کی کلیئرنس کے بعد دی گئی ہے، تاہم اس کی حتمی اجازت وزارت داخلہ کی منظوری سے مشروط ہوگی۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-03/1516025_072720_updates.jpg
اے ٹی ایف انڈر 12 ٹینس چیمپئن شپ، پاکستان نے کولمبیا کو ہرا دیا
اے ٹی ایف انڈر 12 انٹرکونٹینینٹل ٹینس چیمپئن شپ میں پاکستان نے پانچویں سے آٹھویں پوزیشن کے پلے آف میں کولمبیا کو شکست دے دی۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
یہ دستہ باصلاحیت کھلاڑیوں اور تجربہ کار آفیشلز پر مشتمل ہے، جو ملک کی نمائندگی 8 مختلف کھیلوں میں کریں گے، جن میں ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، جوجتسو، کبڈی، سوئمنگ، تائیکوانڈو، والی بال اور ریسلنگ شامل ہیں۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان وفد کی قیادت بطور چیف ڈی مشن کریں گے۔
قومی کھیلوں کی شفافیت اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے پی ایس بی نے اس بار سختی سے میرٹ پر مبنی پالیسی اپنائی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-03/1516005_045239_updates.jpg
کینیڈا میں برامپٹن سپر لیگ کا 2025 سیزن اختتام پذیر
کینیڈا میں برامپٹن سپر لیگ کا 2025 سیزن اختتام پذیر ہوا، جس میں ڈویژن سطح پر مسی ساگا ڈولفنز فاتح قرار پائی اور پریمئر فائنل کا ٹائٹیل رائل ٹائیگر نے حاصل کیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
پی ایس بی کے ڈائریکٹر جنرل یاسر پیرزادہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی اس پالیسی کے تحت سیلف اسپانسرشپ کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، جو ماضی میں بااثر افراد کے ذریعے میرٹ سے ہٹ کر بیرونی دورے کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی۔
پی ایس بی کے ترجمان نے کہا ہے کہ’یہ دستہ ہمارے ملک کے خالص اسپورٹنگ ٹیلنٹ کی نمائندگی کرتا ہے، ڈی جی پی ایس بی کی واضح ہدایات کے تحت یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ ہر کھلاڑی اپنی مہارت اور کارکردگی کی بنیاد پر منتخب ہو نہ کہ مراعات یا ذاتی وسائل کی بنیاد پر۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ کھیلوں کو غیر ضروری بیرونی دوروں کا ذریعہ بنانے کا دور ختم ہو چکا ہے، اب ہماری توجہ صرف ان کھلاڑیوں پر ہے، جو پاکستان کے لیے اعزاز جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔
Pages:
[1]