ٹی10 لیگ: ہربھجن سنگھ کا شاہنواز دھانی سے مصافحہ، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-20/1530127_4219119_2_updates.jpgاسکرین گریبابوظبی میں کھیلے گئے ٹی10 لیگ کے میچ کے بعد بھارتی سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ نے پاکستان کے فاسٹ بولر شاہنواز دھانی سے مصافحہ کیا، جس نے شائقین کی توجہ حاصل کرلی۔
یہ مصافحہ ناردرن وارئیرز اور ایسپن اسٹیلینز کے مقابلے کے فوراً بعد ہوا، جہاں دھانی نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے آخری اوور میں صرف 8 رنز کا دفاع کیا اور ٹیم کو ٹورنامنٹ کی پہلی کامیابی دلائی، وارئیرز نے اسٹیلینز کو سنسنی خیز مقابلے میں چار رنز سے شکست دی۔
آخری اوور کے آغاز پر اسٹیلینز 107 رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ جیت کے قریب تھے، لیکن دھانی نے صرف دو رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں اور میچ کا رخ یکسر بدل دیا، اس کے بعد کپتان ہربھجن سنگھ خود بیٹنگ کے لیے آئے، لیکن آخری دو گیندوں پر درکار چھ رنز پورے نہ کر سکے، وہ آخری گیند پر رن آؤٹ ہوگئے، یوں میچ وارئیرز کے نام رہا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-16/1528954_112238_updates.jpg
سابق بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ بھی کولکتہ ٹیسٹ کی پچ پر تنقید کیے بغیر نہ رہ سکے
ہربھجن سنگھ نے کہا کہ بھارت جنوبی افریقہ ٹیسٹ میچ کا نتیجہ دوسرا دن ختم ہونے سے قبل ہی سامنے آنے لگا، یہ ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ مذاق ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
میچ کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑی روایتی طور پر ہاتھ ملانے کے لیے ایک دوسرے کے پاس آئے، جس میں ہربھجن سنگھ بھی شامل تھے، انہوں نے دھانی کے پاس آکر گرمجوشی سے مصافحہ کیا، جسے دیکھ کر سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہوا، مداحوں نے اسے کھیل کی اچھی روح قرار دیا، جب کہ کچھ صارفین نے سابق بھارتی اسپنر کو ان کی پچھلی پالیسیوں کے برعکس رویّے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ ہربھجن سنگھ رواں سال انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں بھارت لیجنڈز کا حصہ تھے، جنہوں نے دو مرتبہ پاکستان لیجنڈز کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا تھا۔
یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مصافحے کا تنازعہ اس سال کئی مواقع پر سامنے آیا، ایشیا کپ 2025ء میں بھارتی کھلاڑیوں نے تینوں میچوں میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ رسمی مصافحہ نہیں کیا، اسی طرح آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025ء میں بھی دونوں ٹیموں کی کپتانوں نے ٹاس کے موقع پر ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔
Pages:
[1]