پارلیمان کی ترمیم کو کسی عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کیا جا سکتا: وزیر قانون
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-20/1530161_6812339_07_updates.jpgفائل فوٹووفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پارلیمان کی گئی ترمیم کو کسی عدالت کے سامنےچیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کا قیام کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پارلیمان بالادست ہے اور پارلیمان کو بالادست ہونا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سیاست میں اگر انتشار اور انتہا پسندی آئے گی پھر نہ ملک آگے چلے گا اور نہ نظام، پھر سیاست دانوں کی بساط لپیٹی جاتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-18/1529612_104844_updates.jpg
وکلاء ایکشن کمیٹی اجلاس، وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ کے مطالبے پر اختلاف
27ویں آئینی ترمیم کے خلاف آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ کے مطالبے پر اختلاف سامنے آگیا، وکلا ایکشن کمیٹی کے اعلامیے میں پہلے وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا بعد میں بائیکاٹ کو بار ایسوسی ایشنز کی مشاورت سے مشروط کر دیا گیا۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنے کا طریقہ کار بھی درج کیا گیا ہے، پارلیمان آئین میں ترمیم کر سکتی ہے، پارلیمان کی گئی ترمیم کو کسی عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ آئین میں لکھ دیا گیا کہ ملک کو منتخب کیے گئے نمائندوں نے چلانا ہے، یہی بات سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھی، فیصلے میں کہا گیا کہ 17غیرمنتخب جج پارلیمان سے زیادہ ذہین اور بااختیار نہیں ہوسکتے، انہیں ہونا بھی نہیں چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان آئینی طریقے سے چل رہا ہے، آئینی عدالت کا قیام کوئی نئی چیز نہیں، موجودہ آئینی ترمیم میں ایسی عدالت بنائی گئی ہے جس میں چاروں اکائیوں کی برابر نمائندگی ہوگی۔
Pages:
[1]