انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ کی اسرائیلی کابینہ میں میڈیا سے متعلق پیش کیے گئے 2 بلز پر تشویش
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-29/1532951_4007642_News20_updates.jpgفوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیاانٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے اسرائیلی کابینہ میں میڈیا سے متعلق پیش کیے گئے دو نئے بلز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بل منظور ہو جاتے ہیں تو اسرائیل میں آزادیٔ صحافت پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔
نئے میڈیا ریگولیشن بِل ’الجزیرہ لاء‘ سے اسرائیل میں مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ آئے گی۔
اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے اسرائیلی حکومت کو غیر ملکی میڈیا اداروں کو بند کرنے کا یکطرفہ اختیار ہوگا۔ اس کے علاوہ ٹی وی چینلز، نیوز ویب سائٹس اور اسٹریمنگ ویب سائٹس کو حکومت کے ساتھ رجسٹر کرنا پڑے گا۔
نئے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر کونسل کو رجسٹریشن منسوخ کرنے یا میڈیا آؤٹ لیٹس پر جرمانے عائد کرنے کا اختیار ہوگا۔
یہ قانون براڈکاسٹ میڈیا کی قانونی طور پر تجارتی ٹیلی ویژن چینلز سے آزاد ہونے کے قانون کو بھی ختم کردے گا جس سے میڈیا میں کارپوریٹ یا سیاسی مداخلت کا دروازہ کھل جائے گا۔
Pages:
[1]