پنجاب میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد ڈھائی کروڑ سے زائد ہے، ڈی آئی جی وقاص نذیر
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-02/1533914_7275676_DIGWaqasNazir_updates.jpgڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ٹریفک پنجاب وقاص نذیر نے کہا ہے کہ پنجاب میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 2 کروڑ 55 لاکھ سے زائد ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں وقاص نذیر نے کہا کہ صوبے بھر میں ٹریفک کے نئے ترمیمی آرڈینس کا اطلاق ہو چکا ہے، لائسنسنگ سینٹرز پر لائسنس بنانے والوں کی لائنیں لگی ہیں۔ لوگوں نے لائسنس بنوانا شروع کردیے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-01/1533596_120448_updates.jpg
پنجاب ٹریفک پولیس متحرک، 24 گھنٹے میں 8 کروڑ 42 لاکھ سے زائد کے جرمانے
پنجاب ٹریفک پولیس نے 24 گھنٹے میں 63 ہزار 970 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے چالان کردیے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے مزید کہا کہ پنجاب کے 40 شہروں میں جلد سیف سٹی کا جال بچھا دیا جائے گا، ٹریفک کے مختلف قوانین کی خلاف ورزی کو قابل دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی رقوم بڑھائی ہیں، نئے قوانین پر پچھلے 120 گھنٹوں سے سختی کے ساتھ عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
وقاص نذیر نے یہ بھی کہا کہ ان قوانین کے خلاف میمز بن رہی ہیں، سوشل میڈیا پر بھی بہت بات کی جا رہی ہے، شہری نئے قوانین سے خوف کا شکار ہونے کے بجائے انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مقدمات شہریوں کےلیے نہیں قانون توڑنے والوں کےلیے ہیں، ٹریفک قوانین توڑنے والے بچوں کے والدین کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-02/1533861_044909_updates.jpg
مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم عمر طلبہ کی گرفتاری روک دی
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک قوانین کی... https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ٹریفک قوانین توڑنے والے بچوں کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، ٹریفک قوانین توڑنے والے بچوں پر پہلے بھی مقدمات کا اندراج نہیں ہو رہا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ قوانین کی آگاہی اور ان پر عمل درآمد ساتھ ساتھ چلتا ہے، لوگوں کو قوانین کی پابندی پر عمل درآمد کےلیے تیار کیا جاتا ہے، 200 اور 500 روپے کے جرمانے سے کچھ اثر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
Pages:
[1]