انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف گستاخی کے مقدمے میں حکمِ امتناع برقرار
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-04/1534471_7451678_12_updates.jpgفائل فوٹواسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے پر انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف گستاخی کے مقدمے میں حکمِ امتناع برقرار رکھا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عدالت اسلامی نظریاتی کونسل کے اختیارات کو معطل نہیں کر رہی، اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے پر حکمِ امتناع برقرار رہے گا۔
جسٹس کیانی نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے اور ریاست کا موقف پیش کیا جائے تاکہ عدالت ریاست کی اس متعلقہ تشریح دیکھ سکے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-03/1534205_065100_updates.jpg
لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ میں انجینئر محمد علی مرزا کی درخواستِ ضمانت منظور
عدالت نے انجینیر محمد علی مرزا کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے صدر، گورنر اور پارلیمان کو بھیجی جا سکتی ہے، تاہم کونسل کے رولز میں صرف پارلیمان کو رائے بھیجنے کا تذکرہ موجود ہے۔
جسٹس کیانی نے استفسار کیا کہ پارلیمان کو معاملہ بھیجنا تھا، آپ نے ایک ایس ایچ او کو کیسے بھیج دیا؟
اسلامی نظریاتی کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کونسل کی ہر رائے پارلیمان کو ہی بھیجی جاتی ہے اور کوئی بھی چیز وہاں پیش کی جاتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کونسل کے پاس کوئی کام نہیں اور وہ اپنا جواز بنانے کے لیے یہ اقدامات کرتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-20/1530230_103407_updates.jpg
محمد علی مرزا کا بیان: اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے معطل کردی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کے بیان سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے پر حکم جاری کر دیا۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
نمائندہ اسلامی نظریاتی کونسل نے عدالت کو بتایا کہ کونسل کے چیئرمین کا عہدہ خالی ہے۔
جسٹس کیانی نے استفسار کیا کہ کیا عدالت چیئرمین کی تعیناتی کے لیے آرڈر پاس کرے؟ چیئرمین نہ ہونے کی صورت میں خود اپنا چیئرمین مقرر کرانے کی کوشش کریں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت موسمِ سرما کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی۔
Pages:
[1]