ذیابطیس سے اچانک دل کے دورے سے موت کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے: تحقیق
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-08/1535537_2490685_5_updates.jpgفائل فوٹوایک حالیہ تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں میں اچانک دل کے دورے سے موت کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابطیس کے مریض ہر عمر میں اس خطرے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس کا براہ راست اثر ان کی مجموعی اوسط عمر پر بھی پڑتا ہے۔
محققین نے 2010 میں ڈنمارک کی مکمل آبادی کا صحت سے متعلق ڈیٹا جانچا، 54 ہزار سے زائد اموات میں سے تقریباً 6900 اموات اچانک دل کے دورے سے موت کے باعث ہوئیں۔
مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ ٹائپ 2 ذیابطیس کے مریضوں میں اچانک دل بند ہونے سے مرنے کا خطرہ 6.5 گنا زیادہ ہے، ٹائپ 1 ذیابطیس کے مریضوں میں یہ خطرہ 3.7 گنا زیادہ ہے، 50 سال سے کم عمر افراد میں خطرہ اور بھی بڑھ کر 7 گنا ہو جاتا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-01/1533496_125349_updates.jpg
کیا ہیٹ ویوز ذیابیطس اور دل کے مریضوں کی صحت پر اثر ڈالتی ہیں؟
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سابق فوجیوں پر کی گئی اس تحقیق کے مطابق انتہائی گرم موسم میں موت کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ذیابطیس ناصرف خطرات بڑھاتا ہے بلکہ زندگی کی مدت بھی کم کرتا ہے، ٹائپ 1 ذیابطیس کے مریض اوسطاً 14 سال کم عمر پاتے ہیں، ٹائپ 2 ذیابطیس کے مریض اوسطاً 8 سال کم عمر زندہ رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ذیابطیس کی وجہ سے خون میں شکر کی زیادتی، دل کی بیماری، اعصابی نظام کی خرابی، دل کی بے ترتیب دھڑکن (Arrhythmias) جیسے عوامل اچانک دل کے دورے سے موت کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔
تحقیق نے واضح کیا کہ اگرچہ ذیابطیس اور اچانک دل کی بیماریسے موت کے درمیان براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، لیکن مضبوط ربط موجود ہے، اس لیے ماہرین کے مطابق کارڈیو ویسکیولر رسک مینجمنٹ یعنی دل کے امراض سے بچاؤ کے لیے جارحانہ اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ نئے علاج جیسے GLP-1 اور SGLT2 ادویات خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں جبکہ مستقبل میں اسمارٹ ڈیوائسز اور امپلانٹس بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
Pages:
[1]