فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا پر تجزیہ کاروں کا کیا کہنا ہے؟
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-11/1536567_327834_News8_updates.jpg---فائل فوٹو4 سنگین الزامات ثابت ہونے پر آج سابق فوجی افسر فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف 4 الزامات پر کارروائی کی گئی تھی۔
12 اگست 2024ء کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی فوجی افسر کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا یہ عمل 15 ماہ تک جاری رہا۔ ملزم تمام الزامات میں قصور وار قرار پایا گیا ہے۔
فیصلے پر تجزیہ دیتے ہوئے ماہرِ قانون اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمڈ فورز کا اپنا ایک اسٹینڈرڈ ہے، فیض حمید کا ٹرائل اِن کے اپنے ادارے نے کیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-11/1536566_125923_updates.jpg
سابق فوجی افسر فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ان کا جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ فیض حمید نے اتنے بڑے عہدے پر رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کیا گیا، ہر کسی کو اپنے قانون کے دائرے میں رہنے کی ضرورت ہے، قانون سب لیے یکساں اور سب اے اوپر ہے، یہ ضروری ہے کہ سب کا احتساب کیا جائے، جو جتنے بڑے عہدے پر ہوگا اُس کا کا احتساب بھی اتنا ہی سخت ہوگا۔
اشتر اوصاف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ٹرائل طویل عرصے تک چلا، سنگین نوعیت کے الزامات تھے، فیض حمید کو سب حقوق اور وکلاء بھی دستیاب تھے، احتساب سب کے لیے ہے۔
ماہرِ قانون ایڈووکیٹ حافظ احسان نے کہا کہ آج یہ ثابت ہوا ہے کہ احتساب سب کے لیے یکساں ہے، سب کا احتساب ہو سکتا ہے، سب کو کیے کی سزا ملے گی چاہے وہ فرد وردی میں ہے، جو اختیارات کا غلط استعمال کرے گا اسے کیے کی سزا ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید پر الزامات سنگین نوعیت کے تھے جو ثابت ہوئے۔
ایڈووکیٹ احسان نے کہا کہ فیض حمید کو سب حقوق حاصل تھے، اپنے پسند کے وکلاء اور کورٹ میں اپنے حق میں ثبوت پیش کرنے کی اجازت تھی، جو عام آدمی کو حقوق حاصل ہیں وہی ملٹری کورٹس میں حقوق حاصل ہوتے ہیں۔
Pages:
[1]