انار کے بیج کیوں کھانے چاہئیں؟
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-12/1536894_6752641_8_updates.jpg— فائل فوٹو
انار ایک ایسا پھل ہے اپنی موٹی، سرخی مائل جلد اور اس کے اندر موجود رسیلے سرخ دانوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
انار کے دانوں میں موجود بیجوں کو ’اریل‘ بھی کہا جاتا ہے جو چھوٹے، کھانے کے قابل، میٹھا اور تلخ ذائقہ رکھتے ہیں۔
انار کے بیجوں کو عام طور پر ان کی غذائیت کی وجہ سے صحت مند سمجھا جاتا ہے۔
یہ اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز (جیسے کہ وٹامن سی اور کے) اور معدنیات جیسے کہ پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو کہ ہاضمے کے لیے فائدہ مند ہے۔
انار کے بیج کھانے کے فوائد
1- انار کے بیجوں میں اینٹی آکسیڈنٹس خاص طور پر پولی فینول ہوتے ہیں جو فری ریڈیکلز کے خلاف لڑنے، سوزش کو کم کرنے اور ہمارے خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد کرتے ہیں۔
2- انار کے بیج بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
3- انار کے بیج وٹامن سی سے بھرے ہوتے ہیں جو ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مختلف اقسام کے انفیکشن اور بیماریوں سے لڑنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔
4- انار کے بیجوں میں ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکتے ہیں، یہ خاص طور پر چھاتی اور پروسٹیٹ کے کینسر میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔
5- بیج جسم کو فائبر فراہم کرنے کا ایک اچھا ذریعہ ہیں جو ہاضمے میں مدد کرتا ہے، قبض کو روکتا ہے اور آنتوں کی صحت کو برقرار رکھتا ہے۔
6- تحقیق کے مطابق انار کے بیج کھانے سے جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جس کا اکثر جوڑوں کے درد اور ذیابیطس جیسی دائمی بیماریوں کے مریضوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔
7- انار کے بیجوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو سورج کی خطرناک شعاعوں اور ماحولیاتی عوامل سے ہونے والے نقصان سے بچاتے ہیں۔
8- انار کے بیج یادداشت کو بہتر بنانے اور دماغی افعال کو بڑھانے کے لیے بھی معاون پائے گئے ہیں کیونکہ ان میں پولی فینول پائے جاتے ہیں جوکہ دماغ کو آکسیڈیٹیو تناؤ سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
9- انار کے بیجوں میں کیلوریز کم اور فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے دیر تک بھوک کا احساس نہیں ہوتا اور اس طرح یہ وزن کم کرنے یا بڑھتے ہوئے وزن کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
Pages:
[1]