شراب نوشی سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے: تحقیق
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-17/1538339_9284470_6_updates.jpgفائل فوٹوایک حالیہ سائنسی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ شراب نوشی کینسر کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے اور جوں جوں شراب کی مقدار بڑھتی جاتی ہے، خطرہ بھی اسی تناسب سے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
یہ تحقیق معروف طبی جریدے کینسر ایپیڈیمیالوجی میں شائع ہوئی ہے، جس میں درجنوں مطالعات کا جائزہ لیا گیا ہے، تحقیق کے مطابق شراب کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مختلف اقسام کے کینسر کے امکانات میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس شواہد پر مبنی جائزے میں 80 افراد سے لے کر تقریباً 10 کروڑ افراد پر مشتمل ڈیٹا شامل کیا گیا ہے۔ فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر اور سینئر محقق کا کہنا ہے کہ ہمارے جائزے میں شامل 50 مطالعات میں مسلسل یہ بات سامنے آئی کہ شراب نوشی جتنی زیادہ ہو، کینسر کا خطرہ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-08-23/1503314_125946_updates.jpg
اسکرولنگ سے دماغ شراب نوشی کی طرح متاثر ہوتا ہے: تحقیق
کیا آپ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر وقت بے وقت کی اسکرولنگ کرنا، ریلز دیکھنا آپ کے دماغ کو اسی طرح متاثر کر سکتی جس طرح شراب نوشی کرتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
تحقیق کے نتائج کے مطابق شراب نوشی سے خاص طور پر جگر، منہ، چھاتی، حلق اور دیگر اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ وہ افراد جو امریکن کینسر سوسائٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں یعنی مرد روزانہ دو جبکہ خواتین ایک ڈرنک تک محدود رہتی ہیں اور صحت مند طرزِ زندگی اپناتے ہیں، ان میں کینسر کا خطرہ نسبتاً کم پایا گیا ہے۔
مزید برآں، مردوں اور خواتین میں شراب نوشی کے اثرات میں فرق بھی سامنے آیا، تحقیق کے مطابق مردوں میں باقاعدہ شراب نوشی کینسر کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ خواتین میں کبھی کبھار زیادہ مقدار میں شراب پینا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق شراب کینسر کے خطرے میں کئی حیاتیاتی عوامل کے ذریعے اضافہ کرتی ہے، جس میں ڈی این اے کو نقصان پہنچانا، ہارمونز میں بگاڑ، آکسیڈیٹو اسٹریس اور دیگر عوامل شامل ہیں۔
Pages:
[1]