امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی H-1B ویزا فیس سے ٹاٹا، انفوسس اور دیگر آئی ٹی کمپنیوں کو بڑا جھٹکا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-17/1538384_526563_News10_updates.jpg--فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیرونِ ملک سے بھرتی کیے جانے والے نئے H-1B ورکرز کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کے فیصلے سے آئی ٹی کمپنیز ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس اور کوگنیزنٹ کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مئی 2020ء سے مئی 2024ء کے درمیان ان تینوں کمپنیوں کے تقریباً 90 فیصد نئے H-1B ملازمین کو امریکی قونصل خانوں کے ذریعے ویزے جاری ہوئے۔ اگر یہ فیس اس عرصے میں نافذ ہوتی تو ان کمپنیوں کو سیکڑوں ملین ڈالر اضافی ادا کرنا پڑتے۔
غیر ملکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق انفوسس کے 10 ہزار 400 سے زائد نئے H-1B ملازمین، یعنی 93 فیصد سے زیادہ اس فیس کی زد میں آتے ہیں جس سے کمپنی پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا بوجھ پڑتا ہے اور ٹاٹا کو تقریباً 6 ہزار 500 ملازمین جبکہ کوگنیزنٹ کو 5 ہزار 600 سے زائد ملازمین کے لیے یہ فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-04/1534470_024524_updates.jpg
امریکا: H-1B اور H-4 ویزا درخواستگزاروں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس پبلک رکھنے کی ہدایت
امریکی حکومت نے H-1B ویزا درخواست گزاروں اور اِن کے H-4 انحصار کرنے والوں کے لیے اسکریننگ کا دائرہ مزید سخت کر دیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
یہ فیس ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اب تک ہنرمند غیر ملکی ورکرز کی بھرتی پر سب سے سخت پابندی سمجھی جا رہی ہے۔
اس اقدام کا مقصد خاص طور پر ان آئی ٹی اور اسٹافنگ کمپنیوں کو نشانہ بنانا ہے جو امریکی کمپنیوں کے لیے بطور درمیانی کردار H-1B ورکرز فراہم کرتی ہیں۔
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس فیس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے تاہم اس کے نتیجے میں ویزا کی طلب میں نمایاں کمی اور مزید ملازمتوں کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کا امکان ہے۔
بعض کمپنیوں نے پہلے ہی اپنی بھرتی کی حکمتِ عملی میں تبدیلی شروع کر دی ہے۔
کوگنیزنٹ کے ترجمان کے مطابق اس فیصلے کا قلیل مدت میں کمپنی کے کام پر محدود اثر پڑے گا کیونکہ حالیہ برسوں میں کمپنی نے ویزوں پر انحصار کم کر دیا ہے۔https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-10/1518196_115052_updates.jpg
1 لاکھ ڈالر فیس کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ کا H-1B ویزے پر مزید پابندیاں لگانے کا فیصلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت H-1B ویزا پروگرام پر نئے اقدامات کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 100،000 ڈالر فیس کے بعد ٹرمپ انظامیہ H-1B ویزا پر بہت سی اضافی شرائط اور پابندیاں بھی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
انفوسس نے بھی کہا ہے کہ اس کی امریکی ورک فورس میں ویزا اسپانسرشپ پر کام کرنے والوں کی تعداد اقلیت میں ہے اور سروسز متاثر نہیں ہوں گی۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس فیس سے نظام کا غلط استعمال روکا جا سکے گا اور امریکی کاروبار کو زیادہ مہارت یافتہ اور بہتر تنخواہ والے ورکرز کی بھرتی میں مدد ملے گی۔
Pages:
[1]