کھانا پکانے کیلئے کونسا تیل بہترین ہے؟
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-18/1538721_8141524_8_updates.jpg— فائل فوٹو
صحت کے مختلف مسائل میں اضافے کے بعد کھانا پکانے کے حوالے سے اب یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ کھانا پکانے کے لیے کونسا تیل زیادہ بہتر ہے؟
ماہرین صحت نے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے مختلف اقسام کے تیل لیے اور ان کا موازنہ کیا۔
زیتون کا تیل
زیتون کے تیل کو اکثر صحت مند انتخاب سمجھا جاتا ہے اور جزوی طور پر یہ بات درست بھی ہے۔
یہ تیل دل اور دماغ کے لیے موزوں مونو سیچوریٹڈ فیٹس اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے لیکن اس کا تقریباً 160 سے 190 ڈگری سینٹی گریڈ کا اسموک پوائنٹ نسبتاً کم ہے جس کی وجہ سے تیل زیادہ گرم ہونے پر اس کے فائدہ مند مرکبات ضائع ہو جاتے ہیں اور نقصان دہ آزاد ریڈیکلز میں بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-09/1535892_102803_updates.jpg
ایئر فرائیر بمقابلہ اوون: کھانا پکانے کے لیے کونسا آپشن بہتر؟
صحت مند طرزِ زندگی کے خواہشمند افراد کے لیے کم تیل میں کھانا پکانا ایک اہم ترجیح بن چکا ہے جبکہ کچن میں استعمال ہونے والے جدید برقی آلات نے یہ عمل آسان بنا دیا ہے خصوصاً اوون اور ایئر فرائیر نے جو روایتی فرائنگ کے مقابلے میں کم چکنائی کے ساتھ خستہ کھانے تیار کرتے ہیں۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
اس لیے زیتون کا تیل صرف سلاد اور پکی ہوئی ڈشز پر چھڑکنے یا سبزیوں کو ہلکا سا بھوننے کے لیے بہترین ہے جب کہ زیادہ آنچ پر کھانا پکانے کے لیے ریفائن کیا ہوا زیتون کا تیل استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں غذائی اجزاء کم ہوتے ہیں۔
ناریل کا تیل
ناریل کا تیل بھی اپنی خصوصیات کی وجہ سے بہت مشہور ہے لیکن ماہرین صحت اس کا استعمال کرتے ہوئے احتیاط کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس میں سیچوریٹڈ فیٹس زیادہ ہوتے ہیں جو جسم میں کولیسٹرول کو بڑھا سکتے ہیں اور پھر دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اگرچہ ناریل کے تیل میں موجود لوریک ایسڈ مواد کچھ صورتوں میں صحت مند کولیسٹرول کو بڑھا سکتا ہے لیکن پھر بھی دل کی صحت پر اس کے مجموعی اثرات پر بحث جاری ہے۔
اس تیل کو سالن بنانے، بیکنگ کرنے اور چیزوں کو فرائی کرنے کے لیے کبھی کبھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کینولا اور فلیکس سیڈ آئل
کینولا آئل کھانا پکانے کے لیے زیتون کے تیل سے زیادہ بہتر اور نسبتاً سستا متبادل ہے جس میں کم سیچوریٹڈ فیٹس ہوتے ہیں، یہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے جو دل اور دماغ کی صحت کے لیے اہم ہے۔
فلیکس سیڈ آئل بھی اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے لیکن اس کا اسموک پوائنٹ کم ہے جس کی وجہ سے یہ زیادہ گرمی پر کھانا پکانے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-13/1537145_093855_updates.jpg
انڈے کھانے کیلئے محفوظ ہیں یا نہیں، ابالنے سے قبل کیسے معلوم کیا جائے؟
انڈے بظاہر تازہ اور خراب دونوں حالتوں میں باہر سے ایک جیسے دکھائی دتے ہیں، اسی لیے انہیں استعمال کرنے سے قبل ان کی جانچ بہت ضروری ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
کینولا آئل ہلکی اور درمیانی آنچ پر کھانا پکانے کے لیے بہترین ہے جبکہ فلیکس سیڈآئل سلاد اور فنشنگ ڈشز کے لیے مناسب رہے گا۔
سورج مکھی کا تیل
سورج مکھی اور دیگر بیجوں کے تیل کو اکثر سوشل میڈیا پر ان کے اومیگا 6 مواد کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب اومیگا تھری کے ساتھ اومیگا 6 کی مقدار متوازن ہو تو یہ تیل نقصان دہ نہیں ہوتے اور سورج مکھی کے تیل کا 232 ڈگری سینٹی گریڈ اسموک پوائنٹ کسی بھی چیز کو تلنے کے لیے اس کے استعمال کو موزوں بناتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ہر تیل کا اپنا کردار ہوتا ہے، کوئی ایک تیل ہر چیز کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔ اس لیے وہ گھر میں باورچی خانے کو صحت مند بنانے کے لیے مختلف اقسام کے تیل صحیح مقدار میں اور صحیح مقصد کے لیے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
Pages:
[1]