فجر کی نماز کے وقت دھن نصیب ہوئی، آئمہ بیگ کا روحانی انکشاف
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-19/1539000_6688416_2_updates.jpg--فائل فوٹوپاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اور باصلاحیت گلوکارہ آئمہ بیگ نے حال ہی میں ایک جذباتی اور روحانی تجربے کا انکشاف کیا ہے۔
آئمہ بیگ سوشل میڈیا پر بھی خاصی مقبول ہیں اور انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد 65 لاکھ سے زائد ہے، انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز معروف ٹی وی شو سے کیا، جس کے بعد وہ بطور پلے بیک سنگر بے پناہ شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں، اب وہ جلد ہی اپنا ڈیبیو میوزک البم بھی ریلیز کرنے جا رہی ہیں۔
ان کے مشہور گانوں میں قلاباز دل، بے فکریاں، بالما بھگورا، بازی، مست ملنگ شامل ہیں، جبکہ انہوں نے ’جا تجھے معاف کیا‘ جیسے ہٹ ڈراموں کے او ایس ٹیز بھی گائے ہیں، کم عمری میں کامیابی حاصل کرنے والی آئمہ بیگ کو اپنے مختصر کیریئر میں ذاتی زندگی سے جڑی کئی تنازعات کا بھی سامنا رہا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-11-10/1527240_011643_updates.jpg
آئمہ بیگ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ، شوہر کے ساتھ تعلقات پر افواہیں زور پکڑ گئیں
آئمہ بیگ اپنی زندگی اور کیریئر کے لمحات اکثر انسٹاگرام پر شیئر کرتی رہی ہیں https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
حال ہی میں عائمہ بیگ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ مجھے فجر کی نماز کے وقت ایک دھن نصیب ہوئی، جب میں اپنی مرحومہ والدہ کو یاد کرتے ہوئے شدید جذباتی کیفیت میں تھیں۔
آئمہ بیگ نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ میں نے فجر کی نماز ادا کی اور اس وقت خود کو بہت کمزور محسوس کر رہی تھی، میں اپنی امی کو یاد کر رہی تھی اور ان کی چند چیزیں دیکھ کر دل چاہ رہا تھا کہ کاش میں انہیں گلے لگا سکوں، فجر کے بعد میں نے سونے کی کوشش کی لیکن آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں جیسے ہی کوئی دھن یا خیال ذہن میں آتا ہے، فوراً اسے ریکارڈ کر لیتی ہوں، چاہے آواز مکمل نہ بھی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ صبح تقریباً 6 بجے میری امی کے لیے چند بول اور ایک دھن میرے ذہن میں آئی، جسے میں نے فوراً ریکارڈ کر لیا، فی الحال میں اس کے بول ظاہر نہیں کر سکتی، جب میں نے میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھا تو اسی دوران میری امی بیمار ہو گئیں، میں زیادہ تر کام میں مصروف رہتی تھی اور ان کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزار سکی، وہی تھیں جو مجھے شوز پر بھیجتی تھیں، مگر وہ ان کی زندگی کے آخری دن تھے۔
Pages:
[1]