بنگلادیش: عثمان ہادی کے قتل پر احتجاج، شیخ مجیب الرحمٰن کے گھر میں توڑ پھوڑ
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-19/1539136_8472336_usman_updates.jpg—فوٹو بشکریہبنگلادیشی میڈیا
بنگلادیش کے انقلابی طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل پر ڈھاکا سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے آج بھی جاری رہے۔
مظاہرین نے شیخ مجیب الرحمٰن کے گھر میں توڑ پھوڑ کی ہے، اخبارات کے دفاتر اور دیگر عمارتوں کو آگ لگا دی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ عثمان ہادی کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ ہے، بھارت 50 سال سے بنگلا دیش کے سیاسی اور نظریاتی معاملات پر اثر انداز ہو رہا ہے، عثمان ہادی کا قتل بنگلا دیش کی داخلی سیاست میں بھارتی مداخلت کا ثبوت ہے۔
دوسری جانب بنگلادیش نے بھارت سے عثمان ہادی کے قاتلوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ قتل میں ملوث 2 مشتبہ ملزمان بھارتی سرحد سے غیر قانونی طور پر داخل ہوئے اور واپس بھارت فرار ہو گئے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-19/1539131_102945_updates.jpg
طلبہ تحریک رہنما عثمان ہادی کی میت سنگاپور سے بنگلادیش پہنچا دی گئی
اقوام متحدہ انسانی حقوق نے بنگلادیش طلبہ تحریک کے رہنما عثمان ہادی کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
واضح رہے کہ عثمان ہادی کو پچھلے ہفتے موٹر سائیکل سواروں نے سر پر گولی ماری تھی، انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ گزشتہ رات دم توڑ گئے تھے، ان کی میت ڈھاکا پہنچا دی گئی۔
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے، جبکہ عثمان ہادی کی موت پر کل ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
عثمان ہادی شیخ حسینہ واجد حکومت کے خاتمے میں طلبہ تحریک کے نمایاں رہنما تھے۔
عثمان ہادی کے قتل پر ڈھاکا میں امریکی سفارت خانے نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق نے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
Pages:
[1]