وزارت خارجہ کے ڈیمارش پر ترجمان برطانوی ہائی کمیشن کا ردعمل
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-26/1541156_4950973_pak-uk_updates.jpgوزارت خارجہ پاکستان کے ڈیمارش پر ترجمان برطانوی ہائی کمیشن کا ردعمل سامنے آگیا۔
برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پولیس اور پراسیکیوشن حکومت سے آزاد ہو کر کام کرتے ہیں، اگر کسی غیر ملکی حکومت کو جرم کا شبہ ہو تو شواہد پولیس لائژن کو دیے جائیں۔
ترجمان ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ متعلقہ مواد برطانوی پولیس کی جانب سے قانون کے مطابق جانچا جائے گا، قانون شکنی کا مواد سامنے آنے پر فوجداری تحقیقات شروع ہو سکتی ہیں۔
برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ ہر معاملہ برطانوی قانون کے تحت نمٹایا جاتا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-26/1541135_044859_updates.jpg
قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری، دھمکیاں دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیمارش برطانوی شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر احتجاج پر جاری کیا گیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان نے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کیا تھا، جس میں برطانیہ سے دھمکیوں اور احتجاج میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
ذرائع وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا۔
میٹ کینل کو دن دو بجے کے قریب طلب کیا گیا اور برطانیہ میں ہونے والے واقعے پر احتجاج کیا گیا، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیمارش برطانوی شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر احتجاج پر جاری کیا گیا۔
Pages:
[1]