گالیوں کے استعمال سے متعلق بحث، ذاکر خان کا جاوید اختر کے بیان پر ردِعمل
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-22/1539848_2338455_2_updates.jpgفائل فوٹوبھارتی کامیڈین ذاکر خان نے معروف نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر کے بیان کے بعد کامیڈی میں گالیوں کے استعمال پر جاری بحث پر اپنا مؤقف پیش کردیا۔
یہ بحث بھارتی کامیڈین سپن ورما کے شو میں جاوید اختر کی شرکت کے دوران شروع ہوئی تھی، گفتگو کے دوران 80 سالہ جاوید اختر نے کہا تھا کہ کامیڈینز اپنی پرفارمنس میں گالیوں کا سہارا کیوں لیتے ہیں۔
جاوید اختر کے مطابق گالی زبان کی مرچ ہے، جب بات چیت میں گہرائی یا ذہانت کی کمی ہو تو اسے دلچسپ بنانے کے لیے سخت الفاظ شامل کر دیے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے پھیکے کھانے میں مرچ ڈال دی جاتی ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں وسائل کی کمی یا غربت ہوتی ہے وہاں مسالے دار کھانے زیادہ عام ہوتے ہیں تاکہ سادگی کی کمی پوری کی جا سکے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-09-06/1507762_080901_updates.jpg
بھارتی اسٹینڈاپ کامیڈین ذاکر خان بیمار، اسٹیج شوز سے وقفہ لینے کا اعلان
بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین ذاکر خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ صحت کے خدشات کی وجہ سے اپنے وسیع دوروں اور اسٹیج سے ’وقفہ‘ لے رہے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
جاوید اختر نے مزید کہا کہ ایک ذہین اور حاضر جواب شخص کو اس مرچ کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ مضبوط زبان اور فکری گہرائی خود کافی ہوتی ہے۔
ذاکر خان نے جاوید اختر کے لیے احترام کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگرچہ ان کے خیالات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم کامیڈینز کو ان کے اندازِ مزاح کی بنیاد پر نشانہ بنانا یا کسی ایک معیار میں پرکھنا درست نہیں۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ذاکر خان نے کہا کہ میں جاوید اختر کو بےحد عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور بھارتی سنیما و ادب کے لیے ان کی خدمات کا معترف ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جاوید اختر کا نقطۂ نظر اس ثقافتی اور لسانی پس منظر میں درست ہے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں اور وہ آج بھی ادب سے جڑے رہتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو ڈھالتے آ رہے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-23/1522135_091354_updates.jpg
شیطانوں کے بھی جذبات ہوسکتے ہیں: لکی علی کی جاوید اختر پر تنقید
لکی علی نے بھی ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جاوید اختر جیسے مت بنو۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ذاکر خان نے واضح کیا کہ میں کامیڈینز کو زبان کے استعمال کی بنیاد پر جج کرنے کے حق میں نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر کامیڈین کا اپنا الگ انداز اور تخلیقی اظہار ہوتا ہے، جسے زبردستی ایک سانچے میں نہیں ڈھالا جا سکتا۔
ذاکر خان نے کہا کہ اگر کسی فنکار کی فطری زبان میں سخت الفاظ شامل ہیں تو اسے یکسر روکنا آسان نہیں، اگرچہ وقت کے ساتھ فنکار پختگی حاصل کرتا ہے اور اپنے مواد کو نکھارتا ہے، لیکن عوامی سطح پر انگلی اٹھانا نہ تو منصفانہ ہے اور نہ ہی مثبت ہے۔
Pages:
[1]