محققین نے کینسر کے علاج کا نیا طریقہ تیار کرلیا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-28/1541680_1923116_4_updates.jpgفائل فوٹومحققین نے کینسر کے علاج کے لیے ایک نیا اور جدید طریقہ کار تیار کرلیا ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صرف کینسر زدہ خلیات کا علاج کیا جائے گا جبکہ صحت مند ٹشوز محفوظ رہیں گے۔
آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں واقع آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے محققین کی ٹیم کے مطابق نہایت باریک دھاتی ذرات، جنہیں ’نینو ڈاٹس‘ کہا جاتا ہے، انسانی جسم میں کینسر کے خلیات کی نشاندہی کر کے انہیں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ طریقہ علاج کینسر کے علاج (Targeted Therapy) کے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق فی الحال ابتدائی مرحلے میں ہے اور اب تک اس کا تجربہ صرف لیبارٹری میں تیار کیے گئے خلیات پر کیا گیا ہے، جبکہ جانوروں یا انسانوں پر اس کے تجربات تاحال نہیں ہوئے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-17/1538339_122106_updates.jpg
شراب نوشی سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے: تحقیق
یہ تحقیق معروف طبی جریدے کینسر ایپیڈیمیالوجی میں شائع ہوئی ہے https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ طریقہ کینسر کے خلیات کی مخصوص کمزوریوں کو ہدف بنا کر ایک مؤثر علاج ثابت ہو سکتا ہے۔
اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر باؤوے ژینگ کے مطابق کینسر کے خلیات عام صحت مند خلیات کے مقابلے میں پہلے ہی زیادہ دباؤ (Stress) میں ہوتے ہیں، نینو ڈاٹس اس دباؤ کو مزید بڑھا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں کینسر کے خلیات خود کو تباہ کرنے کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں یہ طریقہ کامیاب ثابت ہوا تو یہ کینسر کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے، جو مریضوں کے لیے کم نقصان دہ اور زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔
Pages:
[1]