راولپنڈی: سعد رضوی پر انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-14/1519445_3552153_11_updates.jpg—فائل فوٹوتحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیر سعد حسین رضوی سمیت مقامی قیادت پر راولپنڈی کے تھانہ روات میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
مقدمے میں حافظ سعد رضوی اور قاری بلال سمیت 21 رہنماؤں اور کارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ سب انسپکٹر نجیب اللّٰہ کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ٹی ایل پی کارکنان نے شاہراہ عام بلاک کی اور پولیس سے مزاحمت کر کے ایمونیشن چھیننے کی کوشش کی، ملزمان چک بیلی روڈ جھٹہ ہتھیال میں سڑک بلاک کر کے ٹائر جلا کر احتجاج کر رہے تھے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-14/1519407_123715_updates.jpg
قانون نافذ کرنے والے ادارے نے سعد رضوی اور انس رضوی کو ٹریس کر لیا
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انتشار پسند مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا۔ پُرتشدد احتجاج میں ایک پولیس افسر شہید اور ایک درجنوں اہلکار زخمی ہوئے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے ٹی ایل پی کے امیر سعد حسین رضوی کی کال پر روڈ بلاک کیا تھا، پنجاب حکومت نے جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر کے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، قاری بلال21 عہدیدران و کارکنان کے ہمراہ اسحلہ، پیٹرول بموں اور کیلوں والے ڈنڈوں سے لیس تھے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے پولیس کو دیکھتے ہی سیدھی فائرنگ شروع کر دی، ملزمان کی فائرنگ سے کانسٹیبل عدنان زخمی ہوئے، قاری دانش وغیرہ نے کانسٹیبل نذیر کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا، ملزمان نے پولیس سے آنسو گیس کے شیل چھین لیے اور وردی پھاڑ دی۔
مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان سے 10 کیلوں والے ڈنڈے اور4 پیٹرول بم قبضے میں لیے گئے ہیں۔ ملزمان سے ٹی ایل پی کے جھنڈے، پتھر اور چلائی گئی گولیوں کے خول قبضے میں لیے گئے ہیں۔
Pages:
[1]