مارخور اور آئی بیکس ٹرافی ہنٹنگ، کے پی حکومت کا وفاق کو وضاحتی خط ارسال
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-08/1544886_9044126_ungin_updates.jpgفائل فوٹوخیبر پختونخوا میں مارخور ٹرافی ہنٹ کے نان ایکسپورٹیبل کوٹے کے معاملے پر محکمہ جنگلات وجنگلی حیات کے پی نے وفاقی حکومت کو وضاحتی خط ارسال کردیا۔
محکمہ جنگلات وجنگلی حیات نے اپنے خط میں لکھا کہ مارخور، آئی بیکس اور گرے گورال کے نان ایکسپورٹیبل کوٹے کی منظوری پہلے ہی کے پی وائلڈ لائف بورڈ دے چکا ہے۔ کوٹہ مارخور، آئی بیکس اور گرے گورال کی خاطر خواہ آبادی کی بنیاد پر مقرر کیا گیا۔
خط کے مطابق اس سال نان ایکسپورٹیبل کوٹے پر نیلامی اور پرمٹس جاری ہوچکے ہیں، کوٹے پر دوبارہ جائزہ لینے سے عملی اور انتظامی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-29/1542023_035212_updates.jpg
مارخور اور آئی بیکس کے شکار کے کوٹے پر وفاق اور صوبائی حکومت میں تنازع
خط میں کہا گیا ہے کہ نان ایکسپورٹیبل ٹرافی ہنٹنگ کوٹہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے، غیر برآمدی کوٹے سے متعلق صوبائی حکومت کی پوزیشن مکمل طور پر درست ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
خط کے متن میں کہا گیا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام وقت سے جڑا ہے اور یہ مقامی کمیونٹی کی آمدن میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ہنٹنگ سے حاصل آمدن مقامی کمیونٹیز اور جنگلی حیات کی حفاظت پر خرچ کی جاتی ہے۔
خط کے مطابق نان ایکسپورٹیبل مارخور، آئی بیکس اور گرے گورال کا کوٹہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے، یہ بین الاقوامی تجارت کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے نان ایکسپورٹیبل شکار کے لیے وفاق حکومت سے اجازت قانونی طور پر ضروری نہیں۔
وضاحتی خط میں محکمہ جنگلی حیات نے معاملہ وفاق کے ساتھ مشاورت اور قانونی دائرے میں حل کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے سائٹس اجلاس کے منٹس پر نظرثانی کی درخواست کردی۔
اس سلسلے میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات جنید خان نے کہا کہ مارخور کے شکار کو وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی ایکٹ 2015 کے تحت مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔
جنید خان نے کہا کہ مارخور کے پائیدار شکار پروگرام سے مقامی کمیونٹیز کو خاطر خوا مالی فوائد حاصل ہیں، امید ہے بات چیت کے ذریعے وفاقی حکومت کے ساتھ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔
Pages:
[1]