غذا محفوظ رکھنے والے کیمیکلز کینسر کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں: تحقیق
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-12/1546014_9661539_5_updates.jpgفائل فوٹوحالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض غذا محفوظ رکھنے والے کیمیکلز (فوڈ پریزرویٹوز) کا زیادہ استعمال کینسر کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
یہ تحقیق معروف طبی جریدے دی بی ایم جے (The BMJ) میں شائع ہوئی ہے، جس میں فرانس کی یونیورسٹی سوربون پیرس نارتھ کے محققین نے 1 لاکھ 5 ہزار 260 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔
تحقیق میں شامل شرکاء کی عمریں 15 سال سے زائد تھیں اور مطالعے کے آغاز پر کسی کو بھی کینسر لاحق نہیں تھا۔
تحقیق میں شامل افراد، جس میں اکثریت خواتین کی تھی، انہوں نے اپنی خوراک سے متعلق دو تفصیلی 24 گھنٹے کے غذائی ریکارڈ مکمل کیے تاکہ ان کی جانب سے استعمال کیے جانے والے پریزرویٹوز کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ شرکاء کو اوسطاً 7.6 سال تک فالو کیا گیا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-11/1545728_012232_updates.jpg
کیلشیم اور وٹامن ڈی کیسے گرنے اور فریکچر کے خطرات کم کرتے ہیں؟
دوسری جانب مردوں میں بھی 50 سال کی عمر کے بعد ہڈیوں کا زیاں بتدریج شروع ہو جاتا ہے۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
فالو اپ کے دوران 4 ہزار 226 افراد میں مختلف اقسام کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ عام طور پر استعمال ہونے والے کئی فوڈ پریزرویٹوز کا زیادہ استعمال کینسر کے زیادہ واقعات سے منسلک پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق جس کیمیکلز سے خطرہ بڑھنے کا تعلق سامنے آیا، ان میں نان اینٹی آکسیڈنٹ پریزرویٹوز، سوربیٹس (جیسے پوٹاشیم سوربیٹ)، سلفائٹس، نائٹرائٹس، ایسیٹیٹس اور سوڈیم اریتھوربیٹ شامل ہیں۔
محققین نے بتایا کہ بعض اضافی کیمیکلز کا استعمال خاص طور پر چھاتی کے کینسر سے منسلک پایا گیا، جبکہ سوڈیم نائٹریٹ کے زیادہ استعمال کو پروسٹیٹ کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا۔
تحقیق میں مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جو افراد نان اینٹی آکسیڈنٹ پریزرویٹوز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں مجموعی طور پر کینسر کا خطرہ 16 فیصد اور چھاتی کے کینسر کا خطرہ 22 فیصد زیادہ پایا گیا، ان افراد کے مقابلے میں جو ان کیمیکلز کا کم یا بالکل استعمال نہیں کرتے۔
تاہم، تحقیق میں شامل 17 میں سے 11 فوڈ پریزرویٹوز سے متعلق کینسر سے کسی قسم کا تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج خوراک میں احتیاط، قدرتی اور کم پراسیسڈ غذاؤں کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ مزید تحقیق کی ضرورت بھی موجود ہے تاکہ ان کیمیکلز کے طویل مدتی اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
Pages:
[1]