slotcosino Publish time 3 day(s) ago

نیپال: پارلیمانی انتخابات سے قبل بادشاہت کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-12/1546056_110318_%D9%86%DA%86%D9%86%D8%B4%DB%8C_updates.jpg— تصویر: غیر ملکی میڈیا

نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں رواں سال مارچ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل بادشاہت کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ ہزاروں مظاہرین ’بادشاہ واپس لاؤ‘ کے نعرے بلند کرتے سڑکوں پر نکل آئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز نیپال کے معزول شاہی خاندان کے حامیوں نے احتجاجی ریلی نکالی۔

گزشتہ برس ستمبر میں ہونے والے مظاہروں کے بعد سے یہ ریلی معزول بادشاہ گیانندر کے حامیوں کی پہلی بڑی ریلی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں نوجوانوں کے مظاہروں کے بعد عارضی حکومت قائم ہوئی تھی، جس کے بعد اب مارچ میں نئے انتخابات کا اعلان کیا گیا تھا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-09-09/1508458_033043_updates.jpg
نیپال: سوشل میڈیا پر پابندی، نوجوانوں نے وزیراعظم کے گھر کو آگ لگادی

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو اور دیگر شہروں میں کرفیو کے باوجود مظاہرین سر آپا احتجاج ہیں اور صدر رام چندر پوڈیل اور وزیراعظم کے پی شرما اولی کی رہائش گاہ کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png

احتجاجی ریلی کے شرکاء نے 18ویں صدی میں شاہ خاندان کے بانی بادشاہ پرتھوی ناریان شاہ کے مجسمے کے گرد ’ہم اپنے بادشاہ سے محبت کرتے ہیں۔ بادشاہ واپس لاؤ‘ کے نعرے لگائے۔

مظاہرین کے مطابق جن زی تحریک کے بعد نیپال کے لیے آخری اور واحد متبادل حل صرف بادشاہت ہے۔ موجودہ حالات اور ملک کی سمت کے پیشِ نظر، بادشاہت کی بحالی ضروری ہے تاکہ ملک میں نظم و نسق قائم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ نیپال کا شاہی خاندان اب بھی کافی حد تک عوامی حمایت رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ نیپال کی پہلی خاتون وزیرِاعظم سوشیلا کارکی، جو ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج ہیں، نوجوانوں کے مظاہروں کے بعد اقتدار میں آئیں۔

مظاہرین نے کرپشن، مواقع کی کمی، بےروزگاری اور ناقص حکمرانی کے خلاف احتجاج کیا تھا، جس کا آغاز گزشتہ حکومت کی جانب سے مختصر مدت کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے اعلان کے بعد ہوا تھا۔
Pages: [1]
View full version: نیپال: پارلیمانی انتخابات سے قبل بادشاہت کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا