برطانیہ: غیر قانونی طور پر ملازمت کرنیوالے تارکن وطن کیخلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں میں اضافہ
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-13/1546429_8503131_7_updates.jpgفوٹو — برطانوی میڈیابرطانیہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنا مشکل بنا دیا گیا۔
ہوم آفس کے مطابق لیبر پارٹی کے دور میں نیل بارز، کار واش، باربرز اور ٹیک اوے پر چھاپے 77 فیصد بڑھ گئے اور غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کی گرفتاریاں بھی 83 فیصد بڑھ گئیں۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اب تک 12 ہزار 300 گرفتاریاں ہوئیں اور 1700 سے زائد افراد کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا کہ حکومت ڈیجیٹل آئی ڈی متعارف کروانے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے، ڈیجیٹل آئی ڈی ملازمت کے حصول کے لیے لازمی ہوگی۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-10/1545464_092322_updates.jpg
سخت امیگریشن قوانین، برطانوی ویزا درخواستوں میں نمایاں کمی
برطانیہ میں ہنر مند کارکنوں اور صحت اور نگہداشت کے کارکنوں کے لیے 2025 میں ویزا کی درخواستوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے کہا کہ غیرقانونی طور پر کام کرنے کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔
دوسری جانب، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ غیرقانونی ملازمت کے مواقع لوگوں کوسمندری راستے سے برطانیہ آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
کنزرویٹو شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کی حکومت کی نرمی سے غیر قانونی طور پر کام عروج پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا جب تک غیر قانونی طور پر آنے والے لوگ ملک میں کام کر سکتے ہیں، کما سکتے ہیں اور رہ سکتے ہیں تب تک سمگلرز کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا بہت آسان ہے۔
Pages:
[1]