ایرانی ملکہ کا نایاب ہیروں سے جڑا قیمتی ترین تاج جسے صرف ایک بار دیکھا گیا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-14/1546717_6820957_News2_updates.jpgکولاج بشکریہ سوشل میڈیاتقریباً 60 سال قبل ایران کی آخری رانی فرح پہلوی تاریخ میں پہلی ایرانی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون بنیں جنہیں باقاعدہ طور پر تاج پہنایا گیا۔ اس تاریخی موقع کے لیے اِن کا تاج بھی غیر معمولی اور منفرد انداز میں تیار کیا گیا تھا۔
ایران کے آخری شاہ، محمد رضا پہلوی نے 1966ء میں اپنی تیسری اہلیہ فرح پہلوی کے لیے یہ تاج بنوانے کا حکم دیا۔ اس وقت فرح پہلوی کی عمر صرف 29 برس تھی۔
ایرانی روایت کے مطابق تاج میں صرف قومی خزانے کے قیمتی جواہرات ہی استعمال کیے جا سکتے تھے جو تہران میں مرکزی بینک کے شاہی خزانے میں محفوظ تھے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/akhbar/2023-05-07/1222955_040913_updates.jpg
شاہ چارلس کی تاجپوشی سے قبل جنوبی افریقی شہریوں کا ہیروں کی واپسی کا مطالبہ
لندن شاہ چارلس سوم کی تاج پوشی سے قبل سینکڑوں جنوبی... https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
اسی وجہ سے فرانس کی مشہور جیولری کمپنی ’وان کلیف اینڈ آرپلز‘ کے ماہر پیئر آرپلز کو ایران بلایا گیا۔ انہوں نے چھ ماہ کے دوران 24 بار تہران کا سفر کیا اور سخت راز داری میں تاج کی تیاری کا کام مکمل کیا۔
تاج کے ڈیزائن کے لیے 50 خاکے پیش کیے گئے جن میں سے ایک کو منتخب کیا گیا۔
رانی فرح پہلوی کے تاج میں 1,469 ہیرے، 36 زمرد، 36 اسپینل اور یاقوت، 105 موتی شامل تھے جبکہ درمیان میں ایک انتہائی قیمتی زمرد نصب کیا گیا جس کا وزن 92 سے 150 قیراط کے درمیان بتایا جاتا ہے۔
تاج کا اندرونی حصہ سبز مخمل سے تیار کیا گیا اور اس کے ساتھ زمرد کے جھمکے اور ایک قیمتی ہار بھی بنایا گیا۔ تاج کا وزن تقریباً 2 کلوگرام تھا۔
ایرانی رانی فرح پہلوی کا تاج یورپی طرز کا تھا جو روایتی ایرانی تاجوں سے مختلف نظر آتا تھا جبکہ شاہ کا تاج ایران کی قدیم ساسانی تاریخ کی عکاسی کرتا تھا۔
26 اکتوبر 1967ء کو تہران کے تاریخی گلستان محل میں شاہ محمد رضا پہلوی نے پہلے خود کو ایران کا شہنشاہی تاج پہنایا جس کے بعد فرح پہلوی کو رانی کا تاج پہنایا گیا۔
یہ تاج صرف اسی دن عوام کے سامنے پیش کیا گیا اور اس کے بعد کبھی دوبارہ نمائش کے لیے سامنے نہیں لایا گیا۔
آج یہ نایاب تاج تہران کے مرکزی بینک کے خزانے میں سخت ترین سیکیورٹی کے تحت محفوظ ہے جس کا ایران کے قیمتی ترین شاہی نوادرات میں شمار کیا جاتا ہے۔
Pages:
[1]