اسلامی اندولن بنگلادیش، جماعت اسلامی کے انتخابی اتحاد سے علیحدہ ہوگئی، آزاد حیثیت میں حصہ لینے کا فیصلہ
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-16/1547477_6468759_iab_updates.jpgبنگلادیش اسلامک موومنٹ، اسلامی اندولن بنگلادیش نے جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے انتخابی اتحاد میں شامل نہ ہونے اور 13ویں پارلیمانی انتخابات آزاد حیثیت میں لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اسلامی اندولن بنگلادیش کے ترجمان غازی عطا الرحمان نے ڈھاکہ کے پرانا پلٹن میں واقع جماعت کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنسکے دوران بتایا کہ ان کی پارٹی 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں 268 حلقوں سے آزاد حیثیت میں حصہ لے گی۔
غازی عطا الرحمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ اسلامی اندولن کے امیر اور چرمونائی پیر مفتی سید محمد رضوان کریم کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-12/1546134_102338_updates.jpg
بنگلادیش: 2018 کے انتخابات میں 80 فیصد ووٹ رات کے اندھیرے میں ڈالے گئے، رپورٹ
بنگلادیش میں 2014، 2018 اور 2024 کے متنازعہ قومی پارلیمانی انتخابات سے متعلق الزامات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں 80 فیصد ووٹ رات کے وقت ڈالے گئے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
انہوں نے اتحاد سے علیحدگی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اسلامی اندولن کو اتحاد کے اندر منصفانہ سلوک سے محروم رکھا گیا اور پارٹی کو بعض ایسی سرگرمیوں پر شدید تحفظات لاحق ہوئے جو ان کے بقول اسلامی تعلیمات اور اقدار سے متصادم ہیں۔
غازی عطا الرحمان نے کہا کہ ہم پورے ملک میں 268 حلقوں سے درست اور منظور شدہ نامزدگیاں حاصل کر چکے ہیں۔ ہم انہی نشستوں پر آزاد حیثیت سے انتخاب لڑیں گے، اسلامی اندولن اپنے طور پر انتخابات میں حصہ لے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کے امیر نے بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان سے معاملات طے کرنے کی بات کی، لیکن اس حوالے سے اسلامی اندولن سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-04/1543783_095746_updates.jpg
بنگلادیش: جماعت اسلامی کے 2 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی دہری شہریت کی وجہ سے مسترد
الیکشن کمیشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ جماعتِ اسلامی کے دو امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی دوہری شہریت کی بنیاد پر مسترد کر دیے گئے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
اس اعلان کے ساتھ ہی اسلامی اندولن بنگلادیش کی جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد سے وابستگی باضابطہ طور پر ختم ہو گئی۔
واضح رہے کہ 2024 کے اواخر میں اسلامی اندولن، جماعتِ اسلامی اور دیگر جماعتوں نے فروری کے عام انتخابات سے قبل جولائی چارٹر کے نفاذ کے مطالبے پر ایک اتحاد تشکیل دیا تھا۔
انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد اس اتحاد میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اے بی پارٹی کی شمولیت کے بعد اتحاد 11 جماعتوں پر مشتمل ہو گیا تھا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-01/1542941_105625_updates.jpg
بنگلادیش: جماعت اسلامی کے امیدوار کا بیرون ملک فلیٹ، کروڑوں کے اثاثے
38 سالہ فیصل کے مطابق ان کا بنگلادیش میں کوئی مستقل ذریعہ آمدنی نہیں ہے، تاہم وہ بیرون ملک تعلیم، طبی، قانونی یا مشاورتی پیشوں سے سالانہ 4.39 لاکھ ٹکا کماتے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
تاہم بعد ازاں اسلامی اندولن نے جماعتِ اسلامی پر الزام عائد کیا کہ ان جماعتوں، بالخصوص این سی پی کو دیگر اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر اتحاد میں شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں اتحاد کے اندر شدید تناؤ پیدا ہوا۔
واضح رہے کہ بنگلادیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہوں گے، جن کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ہوگا۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر 2,568 کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے جا چکے ہیں، جبکہ 20 جنوری کو دستبرداری کی آخری تاریخ مقرر ہے۔
Pages:
[1]