کیا سوشل میڈیا واقعی نقصان دہ ہے؟ نئی تحقیق نے اسکرین ٹائم کے خدشات کو چیلنج کر دیا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-18/1547962_739482_7_updates.jpgفائل فوٹوایک نئی تحقیق نے اسکرین ٹائم سے متعلق پائے جانے والے خدشات کو چیلنج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال اتنا نقصان دہ نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف مانچسٹر کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال یا بار بار گیمنگ اور اگلے ایک سال میں بے چینی یا ڈپریشن کی علامات کے درمیان کوئی واضح تعلق سامنے نہیں آیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس عام تاثر کو چیلنج کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر زیادہ وقت گزارنا فطری طور پر ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو سیاق و سباق اور ذاتی انتخاب کے تناظر میں دیکھا جائے۔
تحقیق کی سربراہ مصنفہ چی چی چینگ کے مطابق ہم جانتے ہیں کہ خاندان فکرمند ہیں، لیکن ہمارے نتائج اس خیال کی تائید نہیں کرتے کہ صرف سوشل میڈیا یا گیمنگ پر وقت گزارنا ذہنی صحت کے مسائل کا باعث بنتا ہے، معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-15/1519768_085639_updates.jpg
بچوں میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال دماغی صلاحیت کیلئے نقصاندہ
ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال تعلیمی صلاحیت میں کمی سے منسلک ہے۔ اس نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انٹر نیٹ کا زیادہ استعمال آپ کے نوجوان بچوں کی دماغی صلاحیت و قوت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
یہ تحقیق جرنل آف پبلک ہیلتھ میں شائع ہوئی، جس میں 11 سے 14 سال کی عمر کے 25 ہزار طلبہ کے ڈیٹا کا تین مسلسل تعلیمی سالوں تک جائزہ لیا گیا، تحقیق میں طلبہ کے سوشل میڈیا استعمال، گیمنگ کے رجحانات اور ذہنی دباؤ، بے چینی اور جذباتی کیفیت جیسی علامات کا مطالعہ کیا گیا۔
محققین نے فعال اور غیر فعال سوشل میڈیا استعمال کے فرق کا بھی تجزیہ کیا، تاہم نتائج میں یہ سامنے آیا کہ دونوں صورتوں میں مجموعی اثرات تقریباً یکساں رہے، یعنی چاہے بچے فعال اسکرولنگ کے عادی ہوں یا منفی مواد دیکھنے کے رجحان کا شکار، صرف یہی عنصر ذہنی صحت کے مسائل کی واحد وجہ ثابت نہیں ہوا۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکثر مطالعات سوشل میڈیا کے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، جبکہ اس کے فوائد جیسے باہمی رابطے، زندگی کے تجربات کا اشتراک اور خود اظہار کے مواقع کو کم نظرانداز کیا جاتا ہے، جو خود اعتمادی بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
Pages:
[1]