مردوں کے مقابلے میں خواتین مصنوعی ذہانت سے زیادہ محتاط رہتی ہیں: نئی تحقیق میں انکشاف
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-21/1549037_4545723_News12_updates.jpg---فائل فوٹو
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو زیادہ خطرناک سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں اے آئی سے زیادہ محتاط رہتی ہیں۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے PNAS Nexus میں شائع ہوئی ہے۔
نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کی محقق بیٹریس میجسٹو اور ان کی ٹیم نے نومبر 2023ء میں امریکا اور کینیڈا کے تقریباً 3 ہزار افراد سے سروے کیا۔
تحقیق کے شرکاء سے پوچھا گیا کہ ’کیا جنریٹیو اے آئی کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں؟‘ ایک سے 10 کے پیمانے پر مردوں کا اوسط اسکور 4.38 جبکہ خواتین کا 4.87 رہا جو تقریباً 11 فیصد زیادہ ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-08-22/1503022_035857_updates.jpg
طلبہ ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کرنے لگے: مطالعہ
حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 88 فیصد طلبہ ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ خواتین عمومی طور پر خطرات کو بھانپ کر ان سے پیشگی گریز کرتی ہیں۔
لاٹری طرز کے سوالات میں خواتین نے یقینی مگر کم فائدے کو زیادہ خطرناک مگر بڑے فائدے پر ترجیح دی۔
محققین کے مطابق خواتین زیادہ تر ایسے شعبوں میں کام کرتی ہیں جو آٹومیشن اور ٹیکنالوجی سے متاثر ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اے آئی کے ممکنہ اثرات سے زیادہ فکرمند ہیں۔
چند سوالات کے جواب میں خواتین نے اے آئی کے فوائد پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تاہم جب اے آئی کے واضح فوائد دکھائے گئے تو خواتین نے بھی اس کی حمایت تقریباً مردوں جتنی ہی کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سے متعلق پالیسیاں بناتے وقت صنفی خدشات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے ورنہ یہ ٹیکنالوجی عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہے۔
Pages:
[1]