برطانوی وزیراعظم کے استعفے کی قیاس آرائیاں تیز
برطانیہ کے وزیراعظم کیئراسٹارمر کے استعفے کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئیں، وزیراعظم کےمشیر مورگن مک سوینی کے استعفے نے سیاسی دباؤ میں اضافہ کردیا۔ایپسٹین فائلز کے اجرا کے بعد برطانوی سیاست میں نیا بحران سامنے آگیا، سابق سفیر پیٹر مینڈلسن کے ایپسٹین سے روابط سامنے آنے پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔
برطانوی کابینہ کے بیشتر وزرا نے سرکیئر اسٹارمر کی حمایت کی ہے، جبکہ اسکاٹ لینڈ لیبر کے رہنما انس سرور نے قیادت تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
لیبر پارٹی کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ سر کیئر اسٹارمر اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ سے بھی مستعفی ہو جائیں۔
مورگن مک سویِنی نے اتوار کو اپنے عہدے سے استعفیٰ اس وقت دیا جب ان پر لارڈ پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں سفیر مقرر کرانے کے لیے دباؤ ڈالنے پر شدید تنقید ہو رہی تھی۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-08/1554428_075226_updates.jpg
برطانوی وزیراعظم اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن مستعفیٰ
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن میسکوینی مستعفیٰ ہوگئے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری افسران نے دو بار خبردار کیا تھا کہ لارڈ مینڈلسن کے متنازع شخصیت جیفری ایپسٹین سے روابط رہے ہیں، اس کے باوجود تقرری پر اصرار کیا گیا۔
استعفے کے بعد لیبر پارٹی کے اندر کھلبلی مچ گئی ہے، بیک بینچ ارکان کا کہنا ہے کہ اگر چیف آف اسٹاف کو جانا پڑا ہے تو اصل ذمہ داری وزیرِاعظم پر عائد ہوتی ہے۔
رکنِ پارلیمنٹ برائن لیشمین کا کہنا تھا کہ سیاسی سمت میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے اور یہ تبدیلی قیادت کی سطح سے ہی ممکن ہے۔
ادھر لیبر کے سینئر رکن جون ٹرکٹ نے بھی اسٹارمر کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مینڈلسن اور مک سویِنی دونوں کی تقرریاں سنگین غلطی ثابت ہوئیں۔
مورگن مک سویِنی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ لارڈ مینڈلسن کی تقرری کے فیصلے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور ان کے بقول یہ فیصلہ پارٹی، ملک اور سیاست پر عوامی اعتماد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوخ نے وزیرِاعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سر کیئر اسٹارمر ہمیشہ ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتے ہیں اور اپنے فیصلوں کا بوجھ اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بحران لیبر حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے اور آنے والے دنوں میں وزیرِاعظم کے سیاسی مستقبل سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔
Pages:
[1]