بھارت: مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے پر انتہاپسندوں کے سامنے کھڑا ہونیوالا شخص اسٹار بن گیا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-07/1554207_904826_depak_updates.jpg
بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے کے خلاف انتہا پسندوں کے آگے کھڑا ہونے والا مقامی ہندو شہری سوشل میڈیا اسٹار بن گیا۔
بجرنگ دل کے کارکن مسلمان دکاندار کو اس کی دکان کا برسوں پرانا نام “بابا“ تبدیل کرنے کے لیے دھمکا رہے تھے، جس پر دیپک کمار نامی شخص سامنے آیا۔
انتہا پسندوں کو اپنا نام محمد دیپک بتایا اور دلائل دے کر انتہاپسندوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، نفرت انگیزی کے خلاف اقدام پر دیپک کمار کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد ایک ہفتے میں 9 لاکھ سے اوپر چلی گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق محمد دیپک دراصل دیپک کمار ہے، جو پیشے کے لحاظ سے ایک جم ٹرینر ہے۔ وہ واقعہ جس نے دیپک کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا، 26 جنوری 2026 کو پیش آیا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-03-15/1451393_072150_updates.jpg
بھارت: ہولی پر ہندو انتہاپسندوں کے حملوں کا خطرہ، مساجد کو ترپالوں سے ڈھانپ دیا گیا
ہولی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، مقامی انتظامیہ نے مسلمان شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
کوٹدوار میں بعض ہندو تنظیموں نے ایک کپڑوں کی دکان ’بابا اسکول گارمنٹس‘ کے نام پر اعتراض کیا۔
ان کا مؤقف تھا کہ لفظ ’بابا‘ ہندو مذہبی روایت سے جڑا ہوا ہے اور کسی مسلمان دکاندار کو یہ نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
دکان کے مالک وکیل احمد کا کہنا تھا کہ ان کی دکان تقریباً 30 برس سے چل رہی ہے اور اس سے قبل کبھی کسی نے نام پر اعتراض نہیں کیا۔ ان کے مطابق لفظ ’بابا‘ مختلف مذاہب میں استعمال ہوتا ہے اور یہ صرف ہندو مذہب تک محدود نہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-10-11/1518588_100730_updates.jpg
بھارت: اپنے ساتھ افیئر چلانے والے تاجر کی قاتل انتہا پسند خاتون رہنما گرفتار
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ علی گڑھ سے تعلق رکھنے والی اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کی عہدیدار پوجا شکون پانڈے 26 ستمبر کو تاجر ابھیشیک گپتا کے قتل کی مرکزی ملزمہ ہیں، انہیں آج بھارت پور (راجستھان) سے گرفتار کر لیا گیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
اسی دوران دیپک کمار نے مداخلت کی اور بجرنگ دل اور دیگر گروپوں کے افراد سے بات کی۔ جب حالات کشیدہ ہو گئے اور ان سے ان کی شناخت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنا تعارف محمد دیپک کے نام سے کروایا۔
دیپک کے مطابق جب بجرنگ دل کے چند افراد دکاندار سے سوالات کر رہے تھے اور نام پوچھے جا رہے تھے تو محمد دیپک کا نام بے ساختہ ان کے ذہن میں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ صرف ایک بھارتی شہری ہیں اور ہر انسان کو اس ملک میں بغیر نشانہ بنے جینے کا حق حاصل ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-16/1547453_081109_updates.jpg
بھارت: ہندو مذہبی نعرہ نہ لگانے پر مسلمان نوجوان کو قتل کردیا گیا
بالاسور میں ہلاک کیے گئے 35 سالہ مسلمان کو انتہا پسند ہندووں کے جتھے نےhttps://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے، کیونکہ موت کے بعد انسان کے اعمال ہی اس کی پہچان بنتے ہیں۔
دیپک کے مطابق 26 جنوری کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی ہے۔ انہیں مسلسل فون کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں سے اکثر حمایتی ہیں، تاہم اس صورتحال نے ان کے روزگار کو بھی متاثر کیا ہے۔
Pages:
[1]