کیا ’دی سمپسنز‘ کارٹونز نے ایپسٹین فائلز کی پیشگوئی بھی کی تھی؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-11/1555507_2693283_News10_updates.jpgفوٹوز بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
کئی دہائیوں سے مشہور اینی میٹڈ شو ’دی سمپسنز‘ کو مستقبل کی پیشگوئیوں سے جوڑا جاتا رہا ہے، اسمارٹ واچ، ویڈیو کالز اور ایک بزنس مین کے امریکی صدر بننے تک ناظرین ماضی کی اقساط کو موجودہ واقعات سے جوڑتے رہے ہیں۔
اب ایک بار پھر یہ شو ’ایپسٹین فائلز‘ کے تناظر میں خبروں میں ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دی سمپسنز نے برسوں پہلے جیفری ایپسٹین اور اس کے مبینہ خفیہ جزیرے کی طرف اشارہ کیا تھا۔https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-10/1555110_072947_updates.jpg
جنسی اسکینڈل فائلز: ٹرمپ معافی کا اعلان کریں تو گواہی دینے کو تیار ہوں، گزلین میکسویل
گزلین میکسویل پر ایسپٹین کے ساتھ مل کر جنسی مقاصد کے لیے کم عمر لڑکیوں کی انسانی اسمگلنگ کا جرم ثابت ہوگیا تھا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
اس بحث کو اس وقت مزید تقویت ملی جب شو کے خالق میٹ گروننگ کا نام ایپسٹین سے متعلق عدالتی دستاویزات میں سامنے آیا۔
ریکارڈ پر موجود حقائق
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق 2019ء میں غیر مہر شدہ عدالتی دستاویزات میں ایپسٹین کیس کی مدعی ورجینیا جیفری نے بتایا کہ اُنہوں نے 16 سال کی عمر میں ایپسٹین کے نجی طیارے میں میٹ گروننگ کو مختصر فلائٹ کے دوران پاؤں کی مساج دی تھی، ورجیننا نے میٹ گروننگ کو مہذب قرار دیتے ہوئے ان پر کسی قسم کی بدسلوکی کا الزام نہیں لگایا تھا۔
2026ء میں امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات میں سے ایک میں میٹ گروننگ کا نام ایک غیر رسمی ای میل میں آیا ہے جس میں انہیں نوبیل انعام یافتہ محمد یونس سے متعارف کروانے کا ذکر تھا تاکہ ممکنہ طور پر دی سمپسنز میں کیمیو کیا جا سکے۔
کارٹون کی ’جزیرے‘ والی قسط اور سوشل میڈیا پر دعوے https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-07/1554126_093842_updates.jpg
سزا یافتہ جنسی مجرم ایپسٹین کی فائلز میں نام آنے پر انوراگ کشیپ نے خاموشی توڑ دی
ایپسٹین فائلز میں انوراگ کاشیپ کا حوالہ ایک ای میل تھریڈ کے ذریعے سامنے آیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
بحث کا مرکز دی سمپسنز کی 2000ء میں نشر ہونے والی قسط The Computer Wore Menace Shoes ہے جس میں ہومر کو ایک پراسرار جزیرے پر لے جایا جاتا ہے جہاں طاقتور لوگ دنیا کو خفیہ طور پر کنٹرول کرتے دکھائے گئے ہیں۔
قسط کے مکالمات جیسے ’کوئی اس جزیرے سے کوئی واپس نہیں جاتا‘ اور ’کچھ عجیب لوگ ایک جزیرے سے پوری دنیا چلا رہے ہیں‘ وائرل ہو چکے ہیں۔
آن لائن صارفین اس جزیرے کو ایپسٹین کے لٹل سینٹ جیمز اور گریٹ سینٹ جیمز جزائر سے جوڑ رہے ہیں جہاں ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے الزامات تھے۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019ء میں نیویارک کی جیل میں قید میں ہلاک ہو گیا تھا۔
اسٹیفن ہاکنگ سے جڑا کلپ بھی وائرل
ایک اور وائرل کلپ میں دی سمپسنز کی ایک پرانی قسط میں لیزا کو اسٹیفن ہاکنگ کی گود میں بیٹھا دکھایا گیا ہے، چونکہ ہاکنگ کا نام بھی ایپسٹین سے متعلق کچھ دستاویزات میں آیا تھا اس لیے اس منظر کو بھی بعض افراد نے ’پیشگوئی‘ قرار دیا ہے حالانکہ کہانی کا ایپسٹین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
وائرل مواد کی حقیقت کیا ہے؟ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-31/1552079_110843_updates.jpg
ایپسٹین فائلز میں میئر نیویارک ظہران ممدانی کی والدہ میرا نائر کا بھی ذکر
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئیں نئی ایپسٹین فائلز میں معروف فلم ساز میرا نائر کا نام ایک ای میل میں سامنے آیا ہے جس میں 2009ء میں اِن کی فلم کی آفٹر پارٹی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
واضح رہے کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ دی سمپسنز کی کہانیاں جیفری ایپسٹین کی سرگرمیوں پر مبنی تھیں یا شو کے تخلیق کاروں کو کسی قسم کی اندرونی معلومات حاصل تھیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس معاملے سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق، طویل عرصے تک چلنے والے شو کی وسعت، یا حالاتِ حاضرہ پر سماجی طنز کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
Pages:
[1]