پتنگ بازی ’بو کاٹا‘ کے نعروں کے بغیر ادھوری ہے
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-05/1553555_5747481_patng_updates.jpgگلوکارہ فریحہ پرویز نے ’دل ہوا بو کاٹا‘ گا کر دِلوں کے تار چھیڑے۔ فوٹو: آن لائنپتنگ بازی ’بو کاٹا‘ کے نعروں کے بغیر ادھوری ہے، اس نعرے میں کاٹا کے معانی تو حریف کی پتنگ کاٹنے کے ہیں، مگر یہ ’بو‘ کیا ہے اور یہ اس نعرے کا حصہ کیسے بنی؟
لاہور کی پتنگ بازی ’بو کاٹا‘ کے نعرے کے بغیر ادھوری ہے، پتنگ بازی کے شوقین لاہوریوں سے پوچھتے ہیں کہ لفظ بو کے کیا معانی ہیں۔
پتنگ بازی کے دوران چھتوں سے اچانک ایک نعرہ گونجتا ہے’آ،بوکاٹا‘۔ یوں سمجھیں کہ بسنت کے سبھی رنگ اس نعرے سے جُڑے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-05/1553556_044310_updates.jpg
لاہور: پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر پابندی
مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
گلوکارہ فریحہ پرویز نے ’دل ہوا بو کاٹا‘ گا کر دِلوں کے تار چھیڑے، تو لگا،جیسے یہ کوئی دل کا معاملہ ہے، لاہوریوں سے بو کے معانی پوچھے، تو بیشتر کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے۔
محققین کے مطابق کانپور میں پتنگ بازی کے دوران حریف کی پتنگ کاٹنے والے ’وہ کاٹا‘ نعرہ لگاتے تھے، یہ نعرہ جب لاہور پہنچا تو ’بو کاٹا‘ بن گیا۔
زندہ دلان لاہور کہتے ہیں کہ پتنگ کاٹنے کا مزا ہی تب آتا ہے، جب وہ ۔۔ ’بو کاٹا‘۔۔ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔
Pages:
[1]