خطرناک نیپاہ وائرس ملائیشیا میں چمگادڑوں سے سوروں، پھر انسانوں میں منتقل ہوا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-30/1551733_5272764_News6_updates.jpg---فائل فوٹوز
نیپاہ وائرس کا شمار دنیا کے خطرناک ترین وائرسز میں کیا جاتا ہے، یہ خطرناک وائرس پہلی بار 99-1998ء میں ملائیشیا میں سور پالنے والے کسانوں میں پھیلنے والی ایک پراسرار بیماری کے طور پر سامنے آیا تھا۔
نیپاہ وائرس چمگادڑوں سے سوروں اور پھر انسانوں میں منتقل ہوا، جس کے نتیجے میں درجنوں انسانی اموات ہوئیں اور لاکھوں سور تلف کیے گئے۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق نیپاہ وائرس کی پہلی شناخت ملائیشیا کے علاقے ’سنگائی نیپاہ‘ میں ہوئی تھی جہاں سور کے فارموں سے وابستہ مزدوروں میں شدید بخار اور دماغی سوزش کے کیسز سامنے آئے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-29/1551396_095321_updates.jpg
پاکستان میں نپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا: ایڈوائزری جاری
بھارت میں نپاہ وائرس کے معاملے پر محکمۂ صحت سندھ نے ایڈوائزری جاری کر دی۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ابتداء میں ان کیسز کو جاپانی انسیفلائٹس سمجھا گیا تاہم تحقیقات کے بعد سائنسدانوں نے ایک نئے وائرس کی نشاندہی کی جسے بعد میں ’نیپاہ وائرس‘ کا نام دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس وائرس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں جو اپنے لعاب اور پیشاب کے ذریعے وائرس خارج کرتی ہیں۔
جنگلات کی کٹائی اور زرعی سرگرمیوں کے باعث چمگادڑیں سور فارموں کے قریب آئیں جہاں سے وائرس سوروں میں اور پھر انسانوں میں منتقل ہوا۔
1998ء سے 1999ء کے دوران ملائیشیا میں نیپاہ وائرس کے تقریباً 283 انسانی کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 109 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملائیشیا کی حکومت نے ایک ملین سے زائد سور تلف کیے جس سے معیشت کو شدید نقصان پہنچا مگر انسانی جانیں بچانے میں مدد ملی۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-01-28/1551160_072711_updates.jpg
بھارت میں جان لیوا نیپاہ وائرس پھیلنے لگا، پھیلاؤ روکنے کیلئے کئی ممالک میں اقدامات
بھارت میں جان لیوا نیپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تھائی لینڈ، ملائیشیا، ہانگ کانگ، سنگاپور اور نیپال نے اقدامات کیے ہیں۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس وباء نے دنیا بھر میں زونوٹک (جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی) بیماریوں کے حوالے سے سوچ بدل دی۔
اس واقعے کے بعد جانوروں اور انسانوں کے درمیان بیماریوں کی نگرانی، بر وقت تشخیص اور جنگلی حیات پر نظر رکھنے کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
آج بھی کئی ملکوں سے نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔
Pages:
[1]