پی ایس ایل آکشن میں عمر اکمل کو شامل نہ کرنے پر کامران اکمل پی سی بی سے ناراض
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-13/1556096_1272265_5_updates.jpgکامران اکمل----فائل فوٹو
سابق قومی کھلاڑی کامران اکمل نے پی سی بی سے اظہارِ ناراضی کرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ آکشن میں عمر اکمل کو شامل نہ کرنے پر اعتراض کر دیا۔
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026ء کا انعقاد مارچ سے مئی تک نئے اور توسیع شدہ فارمیٹ کے تحت کیا جا رہا ہے، اس سال پہلی مرتبہ لیگ میں روایتی ڈرافٹ سسٹم کے بجائے پلیئر آکشن ماڈل متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت کھلاڑیوں کی نیلامی کی گئی، تاہم اس عمل کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو تنقید کا سامنا ہے۔
حال ہی میں سابق قومی وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے اپنے بھائی عمر اکمل کو پی ایس ایل آکشن کے لیے زیرِ غور نہ لانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-05-31/1476463_112441_updates.jpg
آپ نے متعدد بار حدیں پار کیں ہیں، اپنی حدود میں رہیں: کامران اکمل کا بابر اعظم کے والد کو جواب
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر، بلے باز کامران اکمل اور سابق کپتان بابر اعظم کے والد اعظم صدیقی میں سخت لفظوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کامران اکمل نے کہا کہ میں محض سلیکشن کی بات نہیں کر رہا بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عمر اکمل کا نام آکشن فہرست میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سلیکشن بعد کی بات ہے، پہلے تو عمر اکمل کو آکشن کے لائق ہی نہیں سمجھا گیا، جو کہ ایک کھلاڑی کے ساتھ ناانصافی ہے، اسے موقع ہی نہیں دیا گیا۔
سابق کرکٹر باسط علی نے بھی عمر اکمل کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت مڈل آرڈر بلے باز ہیں اور انہیں ضرور موقع ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے سلیکشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آکشن کے لیے ناموں کے تعین میں شفافیت ہونی چاہیے۔
کامران اکمل نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ غیر منصفانہ نظام ہے، کیوں عمر اکمل کا نام آکشن میں شامل نہیں کیا گیا؟
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض کم تجربہ کار یا طویل عرصے سے غیر فعال کھلاڑیوں کو آکشن میں شامل کیا گیا، جبکہ عمر اکمل کو نظر انداز کر دیا گیا۔
تاحال پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
Pages:
[1]