افغانستان سے سرحد پار حملے اور دراندازی معمول بن چکے، امریکی جریدہ
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-13/1556156_2284465_GAZA-NEW-2_updates.jpgتصویر سوشل میڈیا۔امریکی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق افغانستان سے سرحد پار حملے اور دراندازی معمول بن چکے۔
امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے سرحد پار دراندازی سے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک متاثر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
[*] داعش کی افغانستان میں موجودگی کے ثبوت عالمی شراکت داروں سے شیئر کیے جا چکے ہیں:ترجمان دفتر خارجہ
[*] افغانستان میں TTP کی سہولت کاری، پاکستان کیخلاف کشیدگی میں اضافہ
[*] افغانستان میں سرگرم 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں دنیا کیلئے خطرہ ہیں: بلال اظہر کیانی
جریدے کے مطابق افغانستان مسلح گروہوں اور سرحد پار جرائم کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں۔
امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا تھا کہ داعش کی افغانستان میں موجودگی کے ثبوت عالمی شراکت داروں سے شیئر کیے جا چکے ہیں، پاکستان نہیں چاہتا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔
انہوں نے کہا کہ داعش حملوں کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہے، پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
Pages:
[1]