ایران پر امریکی حملے کا خطرہ مزید بڑھنے لگا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-14/1556398_6878971_us_updates.jpg— فائل فوٹوامریکی فوج ایران کے خلاف مسلسل اور طویل آپریشن کی تیاری میں مصروف ہے۔
دو امریکی عہدیداروں نے برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہوگی۔
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ حملے کی جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے، امریکا ایران کا جوہری انفرا اسٹرکچر ہی نہیں اسٹیٹ اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون ایک اور طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کر رہا ہے جبکہ ہزاروں فوجی، جنگی جہاز، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی مشرق وسطیٰ بھیجے جارہے ہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-03/1553055_084730_updates.jpg
پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے پر ایران کا یورپی یونین سے شدید احتجاج
ایرانی وزارت خارجہ نے یورپی وزراء کونسل کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دے دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ ناقابلِ قبول ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
امریکی عہدیدار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرےگا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اس طرح کی کارروائی میں امریکی افواج کے لیے خطرات کہیں زیادہ ہوں گے، ایران میزائلوں کے زبردست ہتھیاروں کا حامل ہے، ایران کے جوابی حملوں سے علاقائی تنازع کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
ادھر اس حوالے سے ایرانی پاسداران انقلاب فورس کا مؤقف بھی سامنے آگیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا نے حملہ کیا تو کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یو اے ای اور ترکیے میں فوجی اڈے موجود ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے کہا ہے وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے جوہری پروگرام محدود کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
Pages:
[1]