slotcosino Publish time 2026-2-14 20:24:55

کراچی: جوڈیشل کمیشن کے گل پلازا کے دورے اور سوالات کی اندرونی کہانی

https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-14/1556439_2112232_13_updates.jpg—فائل فوٹو

سانحۂ گل پلازا کے محرکات جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن نے گل پلازا کا دورہ کیا، اس موقع پر ڈی سی ساؤتھ، ایس ایس پی سٹی، کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام نے بریفنگ دی۔

جوڈیشل کمیشن نے حکام سے پوچھا کہ جب آگ لگی اس وقت گل پلازا کے کتنے دروازے کھلے تھے؟ حکام نے بتایا کہ گل پلازا کے کل 16 دروازے تھے، جب آگ لگی اس وقت 2 سے 3 گیٹ کھلے تھے۔

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ چھت پر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ حکام نے بتایا کہ عمارت مخدوش ہے، سیڑھیاں گر چکی ہیں، اوپر کی منزلوں تک رسائی ممکن نہیں۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-11/1555506_021913_updates.jpg
سانحۂ گل پلازا پر جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، پبلک نوٹس جاری

کمیشن نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو پبلک نوٹس اخبارات میں شائع کروانے کی ہدایت کی https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png

جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ جس دکان سے آگ لگی اس کی نشاندہی کی جائے۔

جوڈیشل کمیشن کے حکام نے کمیشن کو سب سے پہلے عمارت کے فرنٹ سائیڈ اور اندرونی حصوں کا معائنہ کروایا، موبائل ٹارچ جلا کر حکام نے عمارت کے گراؤنڈ فلور کے اندرونی حصوں کا دورہ کروایا۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ جس مقام سے بڑی تعداد میں باقیات ملی تھیں وہ کہاں ہے۔

کمیشن نے سوال کیا کہ گل پلازا میں موجود افراد کو کس راستے سے باہر نکالا گیا؟ ملبہ کس چیز کا ہے؟ کیا یہ ملبہ توڑ پھوڑ کا نتیجہ ہے؟

حکام نے کہا کہ ملبہ آتشزدگی کے نتیجے میں گرا، ہم نے کسی چیز کو نہیں چھیڑا۔
Pages: [1]
View full version: کراچی: جوڈیشل کمیشن کے گل پلازا کے دورے اور سوالات کی اندرونی کہانی