نایاب سورج گرہن ’رِنگ آف فائر‘ کیسے بنتا ہے؟
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-15/1556671_3466854_4_updates.jpgفائل فوٹو17 فروری کو ایک نایاب سورج گرہن رونما ہوگا جسے عام طور پر ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے، یہ فلکیاتی مظہر محدود علاقوں میں دیکھا جا سکے گا جبکہ مکمل ’رِنگ آف فائر‘ کا منظر صرف انٹارکٹیکا میں نظر آئے گا۔
یہ سورج گرہن اس وقت بنتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے لیکن اپنے نسبتاً فاصلے کی وجہ سے سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپ پاتا، سورج کا بیرونی حصہ ایک روشن دائرے کی شکل میں نمایاں رہتا ہے جو آگ کے حلقے جیسا منظر پیش کرتا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کا تقریباً 96 فیصد حصہ ڈھانپ لے گا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق ’رِنگ آف فائر‘ کا منظر تقریباً 2 منٹ 20 سیکنڈ تک برقرار رہے گا، جبکہ گرہن کا مجموعی دورانیہ تقریباً 271 منٹ ہوگا۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-12-10/1536179_093656_updates.jpg
2027 میں صدی کا طویل ترین سورج گرہن ہوگا
ناسا کا کہنا ہے کہ 2027 کا سورج گرہن 6 منٹ 23 سیکنڈ تک جاری رہے گا https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
اگرچہ مکمل گرہن صرف انٹارکٹیکا میں دیکھا جا سکے گا، تاہم جزوی سورج گرہن افریقا، جنوبی امریکا، بحرالکاہل، بحرِ ہند اور بحرِ اوقیانوس کے بعض حصوں میں بھی دیکھا جا سکے گا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھ سے دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، گرہن دیکھنے کے لیے خصوصی ایکلپس چشمے یا مناسب سولر فلٹر سے لیس دوربین استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، عام دھوپ کے چشمے اس مقصد کے لیے مؤثر نہیں ہوتے۔
Pages:
[1]