12 سالہ امریکی طالبعلم نے گھر میں نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر بنا لیا
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-16/1556950_2577636_3_updates.jpg---تصاویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
امریکا کے شہر ڈیلس سے تعلق رکھنے والے 12 سالہ طالب علم نے گھر میں نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر بنا کر دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایڈن میک ملن نامی طالب علم اب خود کو نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر حاصل کرنے والا کم عمر ترین فرد تسلیم کروانے کے لیے گنیز ورلڈ ریکارڈز سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایڈن ساتویں جماعت کا طالب علم ہے، جس نے اس منصوبے کا آغاز صرف 8 برس کی عمر میں کیا تھا، ری ایکٹر بنانے سے قبل اس نے 2 سال تک نیوکلیئر فزکس کا مطالعہ کیا اور فیوژن کے نظریاتی پہلوؤں کو سمجھا، اس کے بعد اس نے اپنی مشین کے ابتدائی ماڈلز تیار کرنا شروع کیے۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2025-03-25/1454507_120508_updates.jpg
12 سالہ امریکی لڑکے کا کارنامہ، نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر بنا لیا
امریکا کے شہر میمفس سے تعلق رکھنے والے 12 سالہ لڑکے جیکسن اوسوالٹ (Jackson Oswalt) نے ایک حیران کن کارنامہ انجام دیا، اس نے اپنے بیڈروم میں نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر بنا لیا، جس کے بعد FBI نے اس کے گھر کا دورہ کیا ہے۔https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
یہ منصوبہ ویسٹ ڈیلس میں قائم ایک ادارے کے تعاون سے مکمل کیا گیا، جو طلبہ کو سائنسی اور انجینئرنگ کے بڑے منصوبوں پر کام کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ایڈن کے مطابق یہ سفر آسان نہیں تھا، 4 سالہ اس طویل منصوبے کے دوران اسے متعدد ناکامیوں، تکنیکی مسائل اور حفاظتی تقاضوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کی والدہ نے ابتداء میں ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام حفاظتی اقدامات مکمل ہوں۔
بالآخر کامیابی اس وقت ملی جب مشین سے نیوٹرونز خارج ہوئے، جس سے تصدیق ہوئی کہ نیوکلیئر فیوژن کا عمل وقوع پزیر ہو چکا ہے۔
ایڈن کا کہنا ہے کہ یہ لمحہ نہایت جذباتی تھا اور برسوں کی محنت کا ثمر ثابت ہوا۔
ایڈن کے مطابق میرا مقصد شہرت نہیں بلکہ سائنسی تجسس تھا، میں سمجھتا ہوں کہ نیوکلیئر فیوژن مستقبل میں توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور یہ کامیابی اس سائنسی سفر کی محض شروعات ہے۔
Pages:
[1]