slotcosino Publish time 2026-2-21 18:49:33

پنجاب: 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی جرم قرار، آرڈیننس تیار

https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-21/1558670_4814732_marr_updates.jpgفائل فوٹو

پنجاب میں کم عمری کی شادی پر مکمل پابندی سے متعلق آرڈیننس تیار کر لیا گیا۔

اس حوالے سے انسدادِ کم عمری کی شادی کے آرڈیننس (Child Marriage Restraint Ordinance) پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے مطابق نکاح رجسٹرار کو کم عمر کی شادی رجسٹر کرنے پر 1 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے شخص کو کم عمر لڑکی سے نکاح پر کم از کم 2 سال قید ہو گی۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2022-04-25/1078873_042301_updates.jpg
18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی سے متعلق قانون کیا کہتا ہے؟

چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ 2013 کی خلاف ورزی کی سزا 2 سال اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png

علاوہ ازیں کم عمری کی شادی میں ملوث بالغ شخص کو 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔

شادی کے بعد کم عمر لڑکی کے ساتھ رہائش یا تعلقات کو child abuse قرار دے دیا گیا ہے اور چائلڈ ابیوز پر 5 سے 7 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے مطابق کم عمر بچوں کو شادی کے لیے پنجاب سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ تصور ہو گا، سرپرست یا والدین کو کم عمری کی شادی کرانے پر 2 سے 3 سال قید کی سزا ہو گی۔

آرڈیننس کے مطابق چائلڈ میرج کے تمام مقدمات سیشن کورٹ میں چلائے جائیں گے اور عدالت کو کم عمری کی شادی روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع جاری کرنے کا اختیار ہو گا۔

اس آرڈیننس کے تحت تمام جرائم ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ قرار دیے جائیں گے۔
Pages: [1]
View full version: پنجاب: 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی جرم قرار، آرڈیننس تیار