بھارت: مسلمان دکاندار کو ہندو انتہا پسندوں سے بچانے والے دیپک کمار سے راہول گاندھی کی ملاقات
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-23/1559232_1414317_deepk_updates.jpgفوٹو: ایکس کانگریسبھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے کے خلاف انتہا پسندوں کے آگے کھڑے ہونے والے نوجوان اور فٹنس کلب کے مالک دیپک کمار اور عرف محمد دیپک سے راہول گاندھی نے ملاقات کی ہے۔
راہول گاندھی نے دیپک کمار کو یقین دلایا کہ انہیں کسی قسم کے خوف کی ضرورت نہیں، کیونکہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔
یاد رہے کہ محمد دیپک بھارتی شہر کوٹ دوار میں ایک جم ٹرینر ہے، 26 جنوری 2026 کو وہ اس وقت سرخیوں میں آئے جب انہوں نے ایک 70 سالہ مسلم دکاندار وکیل احمد کو ہندو انتہا پنسد تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں کی جانب سےہراساں کیے جانے پر تحفظ فراہم کیا اور ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر انتہا پسندوں کی مخالفت کی تھی، انہوں نے اپنا نام محمد دیپک بتایا تھا۔
اس واقعے کے بعد جہاں ایک جانب ان کی حمایت میں آوازیں اٹھیں، وہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں آئی۔
اس واقعے کے بعد دیپک کو شدید معاشی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا، ان کے جمکے ارکان کی تعداد 150 سے کم ہو کر صرف 15 رہ گئی۔ https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-07/1554207_093951_updates.jpg
بھارت: مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے پر انتہاپسندوں کے سامنے کھڑا ہونیوالا شخص اسٹار بن گیا
دیپک کے مطابق جب بجرنگ دل کے چند افراد دکاندار سے سوالات کر رہے تھے اور نام پوچھے جا رہے تھے تو محمد دیپک کا نام بے ساختہ ان کے ذہن میں آیا۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
دہلی میں راہول گاندھی سے ملاقات کو اسی سلسلے کی اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس نے اس معاملے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
راہول گاندھی سے ملاقات کے بعد دیپک نے بتایا کہ کانگریس رہنما نے مجھ سے میرے خاندان کی خیریت دریافت کی اور کہا کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، میں آپ کے جم کی ممبر شپ بھی لوں گا۔
کانگریس کی جانب سے جاری بیانات میں کہا گیا کہ دیپک نے اتحاد، رواداری اور نفرت کے خلاف کھڑے ہونے کی ایک مثال قائم کی ہے، جو ملک کے نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
Pages:
[1]