برطانیہ: 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی ایک قدم قریب، اسٹارمر کی حمایت متوقع
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-27/1560472_3712072_%D9%85%DA%86%DA%A9%D8%B2%D8%B4_updates.jpg— تصویر بشکریہ رپورٹر
برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کی تجویز ایک قدم آگے بڑھنے والی ہے کیونکہ وزراء آئندہ ہفتے اس پالیسی پر باقاعدہ مشاورت (کنسلٹیشن) شروع کرنے جا رہے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اس اقدام کی حمایت کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی سیکریٹری لِز کینڈل آئندہ ہفتے مشاورتی عمل کی شرائطِ کار جاری کریں گی۔ اس عمل میں مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا، جن میں 16 سال کی عمر کی حد مقرر کرنا شامل ہے۔
https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2026-02-25/1559808_124833_updates.jpg
لندن: تمام ایمرجنسی کے مریضوں کو اسی دن دیکھنا لازمی قرار
برطانوی میڈیا کے مطابق حکام نے جنرل پریکٹیشنرز (جی پیز) کو ہدایت کی ہے کہ ایمرجنسی کے بار بار آنے والے مریضوں کو ترجیح دی جائے۔ https://jang.com.pk/assets/front/images/jang-icons/16x16.png
ذرائع کے مطابق مکمل پابندی کے علاوہ نسبتاً نرم اقدامات بھی زیرِ غور آئیں گے، جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انفینیٹ اسکرولنگ (مسلسل مواد اسکرول کرنے کی سہولت) پر قدغن لگانا، جسے ماہرین کم عمر صارفین کے لیے نشہ آور خصوصیت قرار دیتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بچوں کو آن لائن مضر مواد اور ذہنی صحت پر منفی اثرات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے بہتر ضابطہ بندی اور والدین کی نگرانی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
مشاورتی عمل کے بعد حتمی پالیسی کا اعلان متوقع ہے، جس سے برطانیہ میں سوشل میڈیا کے استعمال کے قواعد میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
Pages:
[1]